30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:یکون مضمونا بالمثل اوبالقیمۃ [1](تعدی کی صورت میں ضمان بالمثل یابالقیمۃ ہوگا۔ت)پس اگر یہ قیمت اور وہ زرثمن کہ زمینداروں نے ان سے لیا تھا برابرہیں فبہا ورنہ جس کی طرف زیادتی ہو دوسرے کو اداکرے،مثلا مشتریوں نے پانچ روپے دئے تھے اور مچھلیاں کہ صرف کرلیں بازار کے بھاؤ سے دس روپے کی تھیں،تو پانچ روپے زمینداروں کو اور دیں،اور ایك روپیہ کی تھیں تو چارروپے زمینداروں سے پھیرلیں،اور اگر مشتریوں نے بیچ ڈالیں تو جن جن کے ہاتھ بیچیں وہ سب بیعیں اجازت زمینداروں پر موقوف رہیں گی،جب تك مچھلیاں اور وہ بائع ومشتری وزمیندار باقی ہیں زمینداروں کو اختیار ہے چاہے بیع جائز کردیں اور قیمت خود لے لیں یا فسخ کردیں اور مچھلیاں واپس لیں،
|
کما ھوحکم بیع الفضولی،ومعلوم ان الاجازۃ انما تلحق الموجوددون المعدوم،فیشترط لہا قیام العاقدین والمقعود علیہ،وکذا المجیز،حتی لم یکن لوارثہ ان یجیز کمافی الدرالمختار وغیرہ۔ |
جیسا کہ بیع الفضولی کاحکم ہے،اورظاہر ہے کہ اجازت موجود چیز کو لاحق ہوسکتی ہے معدوم چیز کو نہیں،تو اس لئے اس وقت عاقدین اور معقود علیہ چیز کا موجود ہونا شرط ہے اور یوں اجازت دینے والے کا موجود ہونا بھی ضروری ہے اس لئے اس کے وارث کو اجازت دینے کاحق نہ رہے گا جیسا کہ در مختار وغیرہ میں ہے۔(ت) |
اوراگرہنوز زمینداروں نے اجازت نہ دی تھی کہ مچھلیاں ان مشتریوں سے خریدنے والوں کے پاس صرف ہوگئیں تو زمیندار مختارہیں،بازار نرخ سے ان مچھلیوں کی قیمت اپنے مشتریوں،خواہ ان کے خریداروں جس سے چاہیں وصول کرلیں،اگر اپنے مشتریوں سے لینا چاہیں تو وہی حکم ہوگا کہ ثمن ان سے لے چکے تھے اس کاحساب کرلیں اوردوسروں سے لیں تو وہ اپنا دیا ہوا ثمن مشتریوں یعنی اپنے بائعوں سے واپس لیں اور مشتری اپنا دیا ہوا ثمن زمینداروں سےغرض ان احکام کے بیان سے یہ ہے کہ اس قول پر کیا کچھ انقلاب ہوتے ہیں اورکیسی کیسی دقتیں لازم آتی ہیں،جن کا اثر شہر کی عام مخلوق پرپہنچے گا، ردالمحتارمیں ہے:
|
للمالك تضمین ایہما شاء،ثم ان ضمن المشتری بطل البیع |
مالك کو اختیار ہے دونوں میں سے جس کوچاہے ضامن بنائے پھر اگر مشتری کو ضامن بنایا تو بیع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع