30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قولہ فسدت فی الکل ویجب اجر المثل لایجاوز بہ المسمی زیلعی قولہ بجزء من عملہ،ای ببعض ما یخرج من عملہ،والقدرۃ علی التسلیم شرط،وھو لا یقدر بنفسہ زیلعی۔[1] |
ماتن کا قول"کل میں فاسد ہوگا"اورمثلی اجرت واجب ہوگی جو مقررہ سے زائد نہ ہو زیلعی،اور اس کا قول"اس کے عمل کے بعض پر"یعنی اس کے عمل سے حاصل شدہ کے بعض کے بدلے اور قبضہ دینے کی قدرت شرط ہے جبکہ وہ خود بنفسہٖ اس پر قادرنہیں ہے۔زیلعی۔(ت) |
اور صورت سوم میں جہاں زمیندار مالك ماہی نہیں ہوتے اگر زمینداروں نے ان شکار کرنے والوں کو اجارہ پر لیا اور وقت متعین کردیا،مثلا آج دوپہر یا شام تك جال ڈالو،تو اس صورت میں جتنی مچھلیاں جال میں آتی جائیں گی سب ملك زمیندار ہوتی جائیں گی جن میں شکار کنندگان کا کوئی حق نہیں،بلکہ وہی اپنے عمل کی اُجرت پائینگے تو اب بھی نصف مچھلیاں لینا ہر گز ظلم نہیں،بلکہ پکڑنے والے جو نصف لیں گے انھیں ناجائز ہے،ہاں اگر وقت معین نہ کیا تو بیشك مذہب راجح پر وہ مچھلیاں ملك شکار کنندگان ہوں گی،اور وہ کسی اجرت کے مستحق نہ ہوں گے لکونہم عاملین لانفسہم(اس لئے کہ وہ اپنے لئے خود عامل بن گئے۔ت)صرف ا س چوتھی صورت میں یہ حکم ہے کہ زمینداروں کا نصف لینا ظلم ہے۔ تنویر الابصارودرمختارمیں ہے:
|
استاجرہ لیصید لہ فان وقت لذلك وقتا جاز والا لا، مجتبی،وبہ یفتی صیرفیۃ [2]اھ ملخصا۔ |
اگر کسی شخص کو شکارکرنےکے لیے اجرت پر رکھا اگر اس کے لیےوقت مقرر کیا تو جائز ہےورنہ نہیں،مجتبی،اور اسی پر فتوی ہے،صیرفیہ اھ ملخصًا(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
قولہ بہ یفتی صیرفیۃ قال فیہا ان ذکر الیوم فالعلف للاٰمر،والافللما مور،و ھذہ روایۃ الحاوی وبہ یفتی قال فی المنح وھذا یوافق ماقدمناہ عن المجتبی ومن ثم عولنا علیہ فی المختصر [3] اھ واﷲ تعالٰی اعلم |
اس کا قول،اسی پر فتوٰی صیرفیہ،اس کتاب میں ہے،اگر آج دن کا ذکرکیا ہو،تو چارہ آمر پر ہوگی ورنہ اجیر پر ہوگی یہ حاوی کی روایت ہے اور اسی پر فتوٰی ہے،اور منح میں کہا مجتبٰی سے ہم نے جو پہلے نقل کیا ہے یہ اس کے موافق ہے اسی وجہ سے ہم نے مختصر میں اس پر اعتماد کیا ہے اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع