30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الثانی لایمبلکہ فلایجوز بیعہ لعدم الملك الاان یسد الخطیرۃ اذا دخل،فح یملکہ ثم ان امکن اخذہ بلاحیلۃ جاز بیعہ و الافلا [1]۔ |
کے بغیر پکڑی نہ جاسکے تو اس کی بیع ناجائز ہے کیونکہ وہ مقدور التسلیم نہیں ہے اور دوسری یعنی تالاب اس مقصد کے لئے نہ لگایا گیا ہو،اس صورت میں مچھلی کا مالك نہ بنے گا لہذا فروخت بھی نہ کرسکے گا ہاں اگر اس صورت میں مچھلی داخل ہوجانے پر تالاب کو بند کرلے تو اب مالك ہوجائے گا اور حیلہ کے بغیر پکڑنے پر قادر ہو تو جائز ورنہ نہیں(ت) |
پس دو صورتوں پیشیں میں کہ زمیندار مالك ماہی ہیں اگر انھوں نے نصف خود لیں ہر گز ظلم نہ کیا کہ وہ کل انھیں کی ملك تھیں بلکہ اگر زمیندار بعد اخذ وشکار ایك نصف مچھلیوں کا جدا کرکے برضائے خود اپنی طرف سے ہبہ صحیحہ تامہ نہ کردیں تو ان کے پکڑنے والوں پر لازم کہ یہ نصف بھی زمینداروں ہی کو واپس دیں اگر چہ ان میں باہم اس شکار کی اُجرت میں نصف مچھلیوں کا قرار داد ہولیا ہو کہ ایسا جارہ ہی شرعا فاسد ہے،غایت یہ کہ اس عقد اجارہ کی صورت میں اپنی محنت کی اجرت مثل لے لیں جو ان نصف مچھلیوں کی قیمت سے زائد نہ ہوں،مثلا جتنی دیر انھوں نے دام کشی کی اس کی اجرت مثل۴/ہوتے ہیں اور مچھلیاں۸/ یا اس سے زائد قیمت کی پکڑی گئیں جب تویہ پورے۴/کے مستحق ہیں اور کم کی شکار ہوئیں تو آدھی مچھلیوں کے جو دام ہوں اس سے زیادہ نہ پائیں گے،فرض کیجئے جال میں۶/کی مچھلیاں آئیں تو انھیں۳/ملیں گے اور۲/کی تو ایك ہی آنہ،اور سو روپے کی تو وہی۴/، درمختارمیں ہے:
|
لودفع غزلا لاٰخر لینسجہ لہ بنصفہ ای بنصف الغزل او استاجر بغلالیحمل طعامہ ببعضہ اوثورا لیطحن برہ ببعض دقیقہ،فسدت فی الکل لانہ استاجرہ بجزء من عملہ [2]۔ |
اگر کسی دوسرے کو سوت دیا کہ نصف پر بُن دے،یاخچر والے کو کہا غلہ نصف کے بدلے اٹھالے جا،یا بیل والے کو کہا کہ گندم کو کچھ آٹے کے بدلے پیس دے تو کل میں اجرت فاسد ہوگی کیونکہ اجیر کے بعض عمل کے بدلے اجارہ ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع