30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طلب نہ کیا،دو سال تو منشی صاحب تنخواہ برابر دیتے رہے بعد کو انھوں نے موقوف کردیا،چونکہ اور کوئی میری معاش نہ تھی مجبورا مکتب کوبدستور قائم رکھا،اور درس دیتا رہا،لیکن کسی شاگرد سےکچھ ماہوار متعین نہ کیا کہ مواخذہ آخر ت نہ ہو،ہاں جو کسی نے دے دیا سو لے لیا اور جس نے نہ دیا اس سے طلب نہ کیا،اب لڑکے بہت قلیل رہ گئے ہیں ان میں سے بھی بعض دیتے ہیں اور بعض نہیں دیتے جس میں کوئی(۱۲/)ماہوار کا حساب ہوجاتاہے نوبت فاقہ کی بھی پہنچ جاتی ہے،اس پر قناعت کرکے شکر الٰہی بجالاتاہوں،اب مجھ پر ایك شخص نے یہ اعتراض کیا کہ جو کچھ لڑکوں سے مجھ کو ملتا ہے ہر طرح حرام ہے خواہ وہ اجرت سمجھ کردیں یا بطور عنداللہ۔
پس اس مسئلہ کو آپ سب صاحب سے دریافت کرتاہوں آیا یہ مال حلال ہے یا حرام؟ براہ خدا ا س کا جواب مزین بمہر کرکے عنایت ہو کہ تردد رفع ہو اور وہ معترض حدیث کا قائل ہے فقہ کانہیں۔
الجواب:
سائل پر شرعا کوئی الزام نہیں اور جو کچھ اسے ماہوار مل جاتاہےحلال طیب ہے،اور کیفیت مذکورہ سوال سے اس کے نہایت صبر استقلال وطلب وجہ حلال وخوف مولٰی ذوالجلال پر دال ہے،جزاہ اﷲ تعالٰی خیرا بلکہ اگر وہ سب پڑھنے والوں سے اپنا ماہوار مقرر کرلے جب بھی جائز ہے اور مذہب مفتٰی بہ پر اصلا مضائقہ نہیں۔
|
فی حاشیۃ البحرالرائق للعلامہ خیرالدین الرملی فی کتاب الوقف المفتی بہ جوا زالاخذ استحسانا علی تعلیم القراٰن [1] الخ ومثلہ فی کثیر من الکتب۔ |
بحرالرائق پر خیر الدین رملی کے حاشیہ میں کتاب الوقف کی بحث میں ہے کہ تعلیم القرآن پر اجرت لینا مفتی بہ قول پر جائز ہے الخ ایسی عبارت کثیر کتب میں موجود ہے۔(ت) |
معترض کا اعتراض محض بیجا ہے اور اس کا یہ کہنا کہ ﷲ سمجھ کردیتے ہیں جب بھی حرام ہے۔شریعت مطہر ہ پر کھلا ہوا افتراء اگر پڑھنے والوں نے اتنے تنگدست استاذ کی لوجہ اﷲ خدمت کی کیا گناہ ہوا،اور استاد کو اس کا لینا کیونکرحرام ٹھہرا،یہ محض جہالت و تعصب ہے، اﷲ جل وعلا فرماتاہے:
|
" وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوۡا |
اپنی زبانوں پر جاری جھوٹ والا قول نہ کرو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے کہ تم اﷲ تعالٰی پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع