30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب سے اولٰی اور اسلم ہے [1]اور یہی فتوٰی ہے امام جلال الدین زاہدون کا،کما فی المنح الغفار والطحطاویۃ [2](جیسا کہ منح الغفار اور طحطاوی میں ہے۔ت)علامہ خیر الدرین رملی استاد صاحب درمختار،علامہ سید اسعد مدنی مفتی مدینہ منورہ تلمیذ صاحب مجمع الانہر اپنے فتاویی میں فرماتے ہیں:مااحسن التفصیل الاخیر [3](آخری تفصیل کیا ہی اچھی ہے۔ت)فاضل شامی فرماتے ہیں:
|
قد اختلف الافتاء وقد سمعت مافی الخیریۃ [4]۔ |
فتوے مختلف ہیں جبکہ آپ نے خیریہ کا بیان سن لیا ہے۔(ت) |
اور فی الواقع یہ اس اعلٰی درجہ نفاست ومتانت واحتیاط رزانت ومراعات جانبین وحفظ مذہب و لحاظ زمانہ پر وقع اور تمام خوبیوں کاجامع ہے کہ خواہی نخواہی قلوب اس خاطر جھك جائیں اور تشتت اقوال و فتاوٰی کے پریشان کئے ہوئے ذہن سے سنتے سکون و اطمینان پائیں،ہم امید کرتے ہیں کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے اور اس قول کو ان کے حضور عرض کیا جاتا بیشك پسند فرماتے،اس قول پر بھی مانحن فیہ(زیر بحث مسئلہ)میں ضمان لینا جائز نہیں کہ سائل تصریح کرتا ہے کہ وہ پیشہ ور معتبر دیانتدار ہے سالہاسال سے کام کرتارہا کبھی اس سے کوئی خیانت ماحفظ میں غفلت واقع نہ ہوئی برسوں کے بعد اتفاقا اس کے پاس سے یہ مال گم ہوگیا،یوں تو آدمی کے پاس اپنا مال باوجود حفظ تام و احتیاط کامل ضائع وہلاك ہوجاتاہے،پھر یہ نہ کہاجائے گا کہ وہ اپنے مال میں خائن ہے۔
بالجملہ جہاں تك نظر فقہی کی مجال ہے صورت مستفسرہ میں ضمان نہ آنا ہی اقوی الاقوال ہے:
|
ولئن تتنزلنا فلاشك فی شدۃ قوتہ وانہ من احسن ما افتی بہ فلایمکن حجر المفتی عن الافتاء بہ ابدا فیاخیبۃ عــــــہ من حکم علیہ بالغلط |
اگر بطور تنزل مان بھی لیں پھر بھی اس کی قوت میں شك نہیں اور وہ فتوٰی کے لئے نہایت احسن ہے تو کسی وقت بھی مفتی اس پر فتوٰی سے باز نہ رہے،خسارہ ہے اس شخص کو جس نے اس پر غلط ہونے کا |
عــــــہ: مولوی امیر احمد سہسوانی۔
[1] العقود الدریۃ کتاب الاجارات ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۱۴۔۱۱۳
[2] حاشیۃ الطحطاوی کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۳۶
[3] فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۴۱،الفتاوٰی الاسعدیۃ کتاب الاجارۃ المطبعۃ الخیریۃ مصر ۲ /۲۷۶
[4] ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع