30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتوٰی دیاہے۔ت)شرح کنزمیں ہے:بہ یفتی بعضہم [1](اسی پر بعض نے فتوٰی دیا ہے۔ت)خلاصہ وبزازیہ میں ہے:بعض العلماء اخذوا بقولھما [2](بعض علماء نے صاحبین کا قول لیا ہے۔ت)شاید یہی وجوہ ہیں کہ جس قدر کتابیں اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں یہ تو بکثر ت ہے کہ صرف قول امام پر فتوٰی نقل کیا اورقول صاحبین کو ترجیح سے معرٰی رکھا اور اس کا عکس ہر گز نہ فرمایا جس سے ظاہر کہ علماء قول صاحبین پر مطمئن نہیں رہے تبیین کاحکم بقولھما یفتی [3](صاحبین کے قول پر فتوٰی دیاجائے گا۔ت)سوان اکابر اساطین مذہ ب اورفاضل زیلعی میں جو فرق ہے کسے معلوم نہیں۔
سادسًا: جمہور کا فتوٰی اسی طرف ہے،
|
لما مران قد جعل الفتوی علیہ فی عامۃ المعتبرات۔ |
جیسا کہ گزراکہ عام معتبرکتب میں اس پر فتوٰی جاری ہوا۔ (ت) |
اور قول جمہور ہمیشہ منصور وغیرمہجور۔
|
الشامی عن الحاوی القدسی ان اختلفوا یوخذ بقول الاکثرین ثم الاکثرین مما اعتمد علیہ الکبار المعروفون منہم کابی حفص وابی جعفر وابی اللیث و الطحطاوی وغیر ھم ممن یعتمد علیہ [4]۔ |
علامہ شامی نے حاوی قدسی سے نقل کیا کہ اگر فقہاء کا اختلاف ہو تو اکثریت کے قول کو لیا جائے گا پھر اکثریت ان لوگوں کی جن پر مشہور اکابر نے اعتماد کیا ہو ان میں جیسا کہ ابو حفص، ابوجعفر،ابواللیث اور طحاوی وغیرہم معتمد علیہ لوگ ہیں۔ (ت) |
سابعًا: اس قول پر فتوٰی دینے والے ایك امام علامہ فخر الملۃ والدین حسن بن منصور اوزجندی ہیں رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ اوریہ امام فارس میدان ترجیح وتصحیح ہیں جن کی نسبت علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان کی تصحیح اوروں کی تصحیح پر مقدم ہے،ان کے فتوٰی سے عدول نہ کیا جائے،علامہ خیر الدین رملی حاشیہ جامع الفصولین میں فرماتے ہیں:
|
علیك بما فی الخانیۃ فان قاضیخان من اہل التصحیح والترجیح [5]۔ |
خانیہ کا بیان کردہ تجھ پر لازم ہے کیونکہ قاضیخاں اہل تصحیح وترجیح میں سے ہیں(ت) |
[1] رمز الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۵۶
[2] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل السادس مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۳۶
[3] تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۵ /۱۳۵
[4] ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۸
[5] اللآلی الدریۃ فی الفوائد الخیریۃ حاشیہ جامع الفصولین الفصل الثامن عشر اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۴۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع