30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واولہ المقرر عننا انہ لایفتی الخ واٰخرہ لانہ صاحب المذھب والامام المقدم [1]۔ |
پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں مسلمہ امر ہے کہ فتوٰی اور عمل امام صاحب کے قول پر ہی ہوگا،اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ ہی صاحب مذہب اور اول امام بھی۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
وکذا لایتخیر(ای المفتی فی الافتاء بماشاء عند اختلاف الفتیا)لوکان احدھما قول الامام والاخر قول غیرہ لانہ لماتعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام [2]الخ۔ |
یونہی مختار نہ ہوگا(یعنی فتاوٰی میں اختلاف کے موقعہ پر مفتی کو اپنی مرضی کا فتوٰی دینے کا اختیار نہیں)جبکہ ایك امام صاحب کا قول ہو اور مقابلہ میں کسی میں دونوں قول ہو،کیونکہ تعارض کی صورت میں دونوں قول ساقط ہوجاتے ہیں تو ہم اصل کی طرف راجع ہوں گے اور وہ امام کے قول کامقدم ہونا ہے الخ۔(ت) |
ثالثًا : جمہور صحابہ و تابعین کا یہی قول ہے یہاں تك کہ قریب اجماع کہا گیا:
|
ولاشك ان قول الجمہور الذین منہم امامناخیرلنا من بعض لیس ھومنھم۔ |
اس میں شك نہیں جمہور جن میں ہمارے امام بھی ہوں وہ ہمارے لئے بہتر ہیں ان لوگوں کے مقابلہ میں جمہور میں شامل نہ ہوں۔(ت) |
رابعًا:خود حضور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس بارہ میں حدیث مروی ہے بخلاف اور مذاہب کےکہ وہاں حدیث مرفوع کا نام بھی سننے میں نہ آیا۔
خامسًا:قول امام پرفتوٰی دینے والے اجلہ ائمہ مالکان ازمہ ترجیح وافتاء معروفین بالاتفاق مشارالیہم بالبنان ہیں جیسے امام ابوللیث سمرقندی وامام محقق برہان الدین مرغنیانی وامام ظہیر الدین مرغینانی وامام افتخار الملۃ والدین طاہربن بخاری وغیرہم من الجلۃ الاکابر رحمۃاﷲ تعالٰی علیہم اجمعین بخلاف مذہب صاحبین کہ اس پر فتوٰی غالبا بالفاظ نقارت وابہام منقول ہوا۔من الناس من افتی بقولھما [3](بعض لوگوں نے صاحبین کے قول پر فتوٰی دیا ہے۔ت)دوسری جگہ ہے:قول بعضہم بہ یفتی [4](بعض نے یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع