30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما لایخفی لانہا صارت متواترہ [1]۔ |
جیسا کہ مخفی نہیں کیونکہ ایسے میں وہ حکم متواتر ہوجاتاہے۔(ت) |
محقق شامی آفندی حاشیہ درمیں بحث تخییرمفتی وقت اختلاف میں لکھتے ہیں:
|
اقول:وینبغی تقیید التخییر اٰیضابما ذا لم یکن احدالقولین فی المتون لما قد مناہ اٰنفا عن البیری ولما فی قضاء الفوائت من البحر من انہ اذا اختلف التصحیح والفتوٰی فالعمل بما وافق المتون اولی [2]۔ |
میں کہتاہوں اور مفتی کے اختیار پر یہ پابندی بھی مناسب ہے کہ جب متون می کوئی قول نہ ہو تو پھر اسے اختیار ہے جیسا کہ ابھی ہم نے بیری سے نقل کیا ہے اور بحرکے قضاء الفوائت سے نقل کی وجہ سے کہ جب تصحیح اور فتاوی میں اختلاف پایا جائے تومتون کے موافق عمل بہترہے۔(ت) |
ثانیًا: یہ قول"قول امام ہے اور ہم قول امام سے عدول نہیں کرتے جب تك کوئی ضرورت یا ضعف حجت نہ ہو اوریہاں ضعف کیسا،جو قوت وشہرت ہے،علماء تصریح فرماتے ہیں کہ قول امام نہ ترك کیا جائے اگرچہ مشائخ دوسرے قول پر فتوٰی دیں چہ جائے آنکہ جمہور اکابر کا فتوٰی اسی طرف ہو۔پھر اسے مہجور کیا جائے،بحرالرائق میں ہے:
|
بہٰذا ظہرانہ لایفتی ولایعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احد ھما اوغیرھما الالضرورۃ من ضعف دلیل اوتعامل بخلافہ کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما [3]۔ |
اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول پر فتوٰی دیا جائے گا اور عمل کیا جائے گا اورصاحبین رحمھما اﷲ یا ان میں سے ایك یا کسی غیر کے قول کی طرف عدول نہ کیا جائے گا الا یہ کہ پیش کردہ دلیل کمزور ہو یاتعامل اس کے خلاف ہو مثلا مزارعت کا تعامل ورنہ مطلقا فتوٰی امام صاحب کے قول پر ہوگا اگرچہ مشائخ تصریح بھی کردیں کہ فتوٰی صاحبین کے قول پرہیں۔(ت) |
اسی طرح علامہ فہامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوٰی میں ذکر فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع