30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وتاخیرہ الدلیل واماانہا ھی ظاھر الروایۃ عن الامام فالشامی وغیرہ فی العقود الدریۃ وغیرھا وامام الجزم بہ فی المتون والافتاء بہ فی عامۃ المعتنبرات حتی کان ھوالمذہب فقد سمعت نص المولٰی ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ التمرتاشی وتبعہ اٰفندی شیخی زادہ و المدقق الحصکفی،و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اور اس کی دلیل کو مؤخر کرنے کا مقتضی ہے،لیکن یہ کہ امام سے یہ ظاہر روایت ہے تو یہ شامی وغیرہ کی عقود الدریۃ وغیرہ میں ہے،لیکن اس پر متون اور فتوٰی کا جزم تویہ عام کتب میں موجود ہے حتی کہ اس کو مذہب کہا ہے،آپ اس پر ابوعبداﷲ تمرتاشی کی نص سن چکے ہیں اور شیخی زادہ اور مدقق حصکفی نے ان کی اتباع کی ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
بالجملہ مذہب امام غایت درجہ قوت وجلالت وثبات ومتانت پر واقع ہے،بحیث لاتزعزع جوانبہ صیحۃ صائح ولا تزلزل ارکانہ صولۃ صائل وانا اقول:وﷲ التوفیق(ایسے کہ اس کے اطراف کو کسی کی چیخ نے متاثر نہ کیااور نہ ہی اس کے ستونوں کو کسی طاقتور کی طاقت نے جنبش دی،اور میں کہتاہوں حالانکہ توفیق اﷲ تعالٰی ہی سے ہے۔ت)
ممارس فن جب بہ نگان امعان ہمارے اس تلخیص عبارت وتحسین اشارت پر نظر کریں تو انشاء اﷲ تعالٰی اس پر مہر نیمروز ماہ نیم ماہ کی روش روشن و بین ہوگا کہ یہاں مذہب امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ بوجوہ کثیرہ اور اقوال پر جو اس کے مخالف ومنافی ہیں ترجیح واضح رکھتاہے۔اگرچہ وہ بھی مذیل بالافتاء والتصحیح ہوں کہ مطلقا اختلاف فتوٰی مستلزم تعادل واستواء نہیں۔
اوّلًا: عامہ متون نے اس پر جزم کیا اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ متون شروع اور شروح فتاوٰی پر مقدم ہیں وھذا یعرفہ کل من لہ معرفۃ فی الفقہ(اس کو فقہ کی معرفت والا ہرایك جانتاہے۔ت) علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
|
اذا اختلف المتصحیح والفتوی فالعمل بما وافق اطلاق المتون اولی[1]۔ |
جب تصحیح اور فتوٰی میں اختلاف پایا جائے تو پھر متون کی موافقت میں عمل اولٰی ہے۔(ت) |
علامہ بیری شرح اشباہ میں غیر مذہب امام پر بعض جگہ فتوی دیاجانا ذکر کرکے کہتے ہیں:
|
ینبغی ان یکون ھذا عند عدم ذکر اہل المتون للتصحیح والافالحکم بما فی المتون |
یہ اس وقت مناسب ہے جب متون میں تصحیح کا ذکر نہ ہو ورنہ حکم وہی ہوگاجو متون نے بیان کیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع