30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غیر نکیر فحل محل الاجماع [1] اھ ۔قلت فیہ ان لا تکیر علی القضاۃ فی الاجتہادیات فالسکوت فی امثال المقام لایدل علی الوفاق ونقل الاتقانی نفسہ فقال قال شرح شیخ الاسلام الاسبیجابی فی شرح الکافی قبیل باب الرجل یستصنع الشیئ کانت المسئلۃ مختلفا فیہا بین الصحابۃ والتابیعن فابوحنیفۃ رجح اقوال البعض علی البعض [2]اھ واما انصوص الملتقی والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والکنز الغرر والتنویر والمنح والتاتارخانیۃ و البزازیۃ وفتوی ابی اللیث وقاضیخان وابن عبدالرشید وصاحب الذخیرۃ والابانۃ والعون فقد سمعت کل ذٰلك واما مجمع البحار فعز الیہ فی ردالمحتار اثری الفتوی وعن الامام الظہیری فی الخلاصۃ والخیریۃ و العلمگیریۃ والعمدۃ والعمادیۃ والمنح وغیرھا، و رجوعہ الی ھذافیہا الا الخبریۃ وعن المضمرات و الذخیرۃ ایضا فی شرح النقایۃ وعن التتمۃ والمحیط فی الایضاح شرح الاصلاح فی حاشیۃ الطحطاوی ورد المحتار،واما ان ترجیحہ مقتضی صنیع الہدایۃ فلتقدیمہ القول |
طرف سےکسی انکار کے بغیر ہوا ہےتو یہ اجماع کےمرتبہ میں ہوا اھ،میں کہتاہوں اس میں یہ اعتراض ہے کہ اجتہاد ات میں قاضیوں پر اعتراض نہیں ہوا کرتالہذا ایسے مقام میں سکوت تائید پر دال نہیں ہوگا جبکہ خود اتقانی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ شیخ الاسلام اسبیجابی نے شرح کافی میں پیشگی آرڈر پر شیئ بنوانے کے باب سے تھوڑا پہلے ذکر کیا ہے کہ اجیر کے ضمان کا مسئلہ صحابہ اور تابعین کے دور میں مختلف فیہ رہا ہے تو امام ابوحنیفہ نے ان کے اقوال میں بعض کو ترجیح دی ہے اھ۔لیکن ملتقی،وقایہ،نقایہ،اصلاح،کنز،غرر،تنویر، منح، تاتارخانیہ، اور بزازیہ کی نصوص اور ابواللیث قاضیخاں،ابن عبدالرشید، صاحب ذخیرہ،ابانۃ،اورعون کے فتاوٰی تو آپ سن چکے ہیں، لیکن مجمع البحار تو اس کی طرف ردالمحتار میں فتوٰی منسوب کیا ہے،اور امام ظہیری سے خلاصہ،خیریہ،عالمگیریہ، عمدہ، عمادیہ اور منح وغیرہ میں نقل موجود ہے،اور ان کا اس طرح رجوع کرنا خیریہ کے علاوہ تمام مذکورہ کتب میں موجود ہے اور مضمرات اورذخیرہ سے بھی شرح نقایہ میں منقول ہے اور تتمہ اور محیط سے ایضاح شرح اصلاح اور حاشیہ طحطاوی اور ردالمحتار میں منقول ہے،اورلیکن اس کی ترجیح تویہ ہدایہ کی عادت کہ بطور قول مقدم کرنا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع