30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العینی علی متن النسفی،وقد ذکر الاتقانی انہ الاصح عندھم نقل ذٰلك عن وجیزہم،وحکایتہ محمد ذکر ھا الامام قاضیخاں فی فتاواہ،واماروایۃ عن عمرو علی رضی اﷲ تعالٰی عنھما فالطوری فی شرح الکنز والسید احمد فی حاشیۃ الدر۔(قلت)ورأیت فی مسندالامام(ابوحنیفۃ)عن یونس بن محمد عن ابی جعفر محمد بن علی عن امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ کان لایضمن القصار والصباغ [1](واخری)زادفیہا والاالحائك [2]واما رجوع علی ان ھذا فالطحطاوی عن الاتفانی عن شرح الکافی، (قلت)ای للامام شیخ الاسلام الاسبیجابی وقد رأیتہ فی غایۃ البیان نقلاعنہ واشار الیہ المولی بحر العلوم فی فواتح الرحموت واما حلولہ محل الاجماع فالاتقانی ایضا حیث قال کان حکم شریح بحضرۃ الصحابۃ والتابعین من
|
پر عینی کی شرح سے مستفاد ہے اور اتقائی نے ذکر کیا کہ ان کے ہاں اصح ہے یہ بات انھوں نے ان کی وجیز سے نقل کی ہے، اور امام محمد سے اس نقل کو امام قاضیخاں نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے لیکن حضرت عمراور حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنھما سے روایت کو توطوری نے کنز کی شرح اور سید احمد نے حاشیہ درمختار میں ان دونوں سے روایت کیا۔ قلت(میں کہتاہوں)میں نے مسند امام ابوحنیفہ میں یونس بن محمد انھوں نے ابو جعفر محمد بن علی انھوں نے امیرالمومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے دھوبی اور رنگریز اور دوسری روایت میں حجام کاذکر بھی ہےکہ آپ ان سے ضمان نہ لیا کرتے تھے،لیکن حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا اس طرف رجوع کرنا تو اس کو طحطاوی نے اتقانی کےحوالہ سے شرح کافی سے نقل کیا ہے قلت(میں کہتاہوں)یعنی امام اشیخ الاسلام اسبیجابی کی شرح سے،اور بیشك میں نے اس کو غایۃ البیان میں ان سے منقول پایا اور بحرالعلوم نے فواتح الرحموت میں اس کی طرف صرف اشارہ کیا ہے لیکن اس کا مرتبہ اجماع میں ہونا توا تقانی نے بھی کہا ہے جہاں انھوں نے بیان کیا کہ قاضی شریح کا فیصلہ صحابہ اور تابعین کی موجودگی میں ان کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع