30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاجیر المشترك قال فخر الدین وعلیہ الفتوٰی وبہ ناخذ اھ [1] وفیہا اواخر الفصل المذکور ایضا عن الکبری الفتوی علی انہ لاتضمن الاجیر المشترك الاماتلف بصنعہ [2]۔ |
فخر الدین نے فرمایا اسی پرفتوٰی ہے اور ہم نے اسی کو لیا ہے اھ اور اسی میں فصل مذکور کے آخر میں کہا کہ فتاوٰی کبرٰی میں بھی ہے کہ مشترك اجیر ضامن نہ ہوگا مگر جبکہ وہ خود سامان کو ہلاك کرے۔(ت) |
اگرچہ مسئلہ تضمین اجیرمشترك میں جبکہ مال بےاس کے فعل کے کسی ایسے سے ضائع ہوجائے جس سے احتراز ممکن تھا اقوال وفتاوٰی سخت مختلف ہے،مگر ہمارے امام اعظم امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك اس پر صورت مذکورہ میں مطلقا تاوان نہیں اور یہی مذہب ہے امام ہمام ۱قاضی شریح و۲امام عطا و۳امام طاؤس و۴امام مجاہد و۵امام ابراہیم نخعی و۶امام حماد بن ابی سلیمان استاذ امامنا الاعظم وغیرہم اکابر تابعین اور ۷امام زفر و۸امام حسن بن زیاد وغیرہم ائمہ دین کا،اور ایك قول میں ۹امام شافعی نے بھی ایسا فرمایا اور وہ ایك روایت ہے ۱۰امام احمد سے بلکہ کہا گیا ۱۱امام محمد سے بھی اس کے مثل منقول ہوا،اور حضرت امیر المومنین ۱۲عمر فاروق اعظم اور ۱۳امیر المومنین علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنھما سے بھی ایك روایت یونہی وارد ہوئی بلکہ امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ نے قول ضمان چھوڑکر اس طرف رجوع فرمائی بلکہ بعض علماء نے فرمایا یہ قول محل اجماع میں ہے،امام اجل شریح رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سرکار مرتضوی کرم اﷲ تعالٰی وجھہ کے قاضی تھےہزار ہاصحابہ تابعین کے حضورہمیشہ یہی حکم دیتے اور کوئی انکار نہ فرماتاکہ خود حضور پر نور حکم عدل خبیرمحمدرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس بارہ میں حدیث وارد،اور بعینہ یہی حکم حضوروالا علیہ افضل الصلٰوۃ والثناء سے مروی اور انھیں تك ہی سب غایتوں کی غایت اور وہی ہیں سب نہایتوں کی نہایت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
|
(ابوحنیفۃ)عن بشر الکرنی عن محمد بن علی عن ابیہ عن علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لاضمان علی قصار ولا صباغ [3]۔ |
ابوحنیفہ بشر الکوفی سے اور وہ اپنے والد سے انھوں نے علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے وایت کیا حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا:دھوبی اور رنگریز پر ضمان نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع