30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابی حنیفہ وبہ افتی [1] وفی الانقرویۃ قال القاضی فخر الدین الفتوی علی انہ لایضمن تاتارخانیہ[2]. اھ وفی البزازیۃ نوع القضاء القاضی افتی بقول الامام[3]اھ، فیہا قال فی العون اخترت قول الامام [4] اھ، وفیہا لو شرط الضمان علی المشترك ان ھلکت قیل یضمن اجماعا والفتوی علی انہ لااثرلہ واشتراطہ وعدمہ سواء لانہ امین [5]،اھ،و فیہا بُعَیْدَہ،فی مسئلۃ لا یضمن وبہ یفتی [6]اھ وفی الجامع الفصولین قال وفیہا علیہ قول البزازی ث[7](الفقیہ الاامام ابواللیث)بہ ناخذ قال ھذ(صاحب الذخیرۃ)۔وفی الہندیۃ اوائل الفصل الاول فی
|
میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول لیا ہے اور اسی پر فتوٰی دیا ہے،اور انقرویہ میں ہے قاضی فخر الدین نے فرمایا فتوٰی یہ ہے کہ وہ ضامن نہ ہوگا،تاتارخانیہ اھ،اور بزازیہ کی نوع القضاء میں ہے قاضیخاں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول پر فتوٰی دیاہے اھ،اور اس میں یہ بھی ہے انھوں نے العون میں فرمایا میں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے اھ اوراسی میں ہے اگر مشترك اجیر پر شرط ضمان لگائی تو بعض نے کہا بالاتفاق ضامن ہوگا،اور فتوٰی یہ ہے کہ اس شرط کا کوئی اثرنہ ہوگا شرط لگانا نہ لگانا برابر ہے کیونکہ امین ہے اھ،اور اسی میں ایك مسئلہ میں تھوڑا بعد فرمایا ضامن نہ ہوگا اسی پر فتوٰی دیا جائے گا اھ اور جامع الفصولین میں فرمایا اور اس میں اس پر بزازی کا"ث" یعنی فقیہ ابواللیث کا قول ہم نے یہی اختیار کیا ہے اور"ھذ"کہا یعنی صاحب ذخیرہ نے،ہندیہ میں اجیر مشترك کی بحث کی ابتداء میں ہے |
[1] الفتاوٰی التاتارخانیہ
[2] فتاوٰی انقرویہ کتاب الاجارہ باب فی ضمان الاجیر المشترك دارالاشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان ۲ /۳۲۵
[3] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۷۸
[4] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۷۸
[5] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۸۸
[6] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۸۸
[7] جامع الفصولین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع