30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الالمانع کالمحجور علیہ فانہ مالك ولا قدرۃ لہ علی التصرف والمبیع المنقول مملوك للمشتری ولاقدرۃ لہ علی بیعہ قبل قبضہ وعرفہ فی الحاوی القدسی بانہ الاختصاص الحاجز وانہ حکم الاستیلاء [1]۔ |
کی قید لگانا مناسب ہے جیسا کہ محجور شخص کہ مالك ہے لیکن تصرف کی قدرت نہیں،اور وہ مبیع جو منقولہ چیز ہو تو مشتری اس کا مالك ہوتا ہے لیکن قبضہ سے قبل فروخت کا تصرف نہیں کرسکتا اور حاوی قدسی میں اس کی تعریف یوں ہے وہ ایسا اختصاص ہے جو دوسرے کے دخل کو روك سکتاہے اوروہ غالب کردیتاہے۔(ت) |
جوہرہ نیرہ جلد اول:
|
و۲لایجوز تصرف المجنون المغلوب علی عقلہ بحال والصبی والمجنون لایصح عقودھما ولا اقرار ھما لانہ لاقول لھما اماالنفع المحض فیصح منھما مباشرتہ مثل قبول الھبۃ والصدقۃ [2]۔ |
مجنون مغلوب العقل اور بچے کا تصرف جائز نہیں اور ان دونوں کا عقد صحیح نہیں ہے اورنہ ہی ان کا اقرار صحیح ہے کیونکہ ان کا قول معتبر نہیں ہے لیکن خالص نفع والے معاملہ کو اپنا نا ان کو جائز مثلا ہبہ اور صدقہ کو قبول کرنا۔(ت) |
درمختار جلد ۵ ص ۱۲۸:
|
و۳تصرف الصبی والمعتوہ الذی یعقل البیع والشراء ان کان نافعا محضا کالاسلام صح بلااذن وان ضارا کالطلاق لا وان اذن وماتردد توقف [3](اختصار)۔ |
بچے اور معتوہ جو بیع وشراء کو سمجھتے ہوں اگر ن کا تصرف خالص فائدہ مند رہے جیسا اسلام قبول کرنا تو پھر ان دونوں کا تصرف صحیح ہے اور ان کے لئے وہ مضرہو تو ولی کی اجازت سے بھی جائز نہیں اور اگر نفع ونقصان دونوں کا احتمال ہو تو اجازت ولی پر موقوف ہوگا۔مضر کی مثال طلاق ہے۔(اختصار)(ت) |
۴بدائع ج ۷ ص ۱۶۹:
|
واختلف ابویوسف ومحمد فی السفیہ |
بیوقوف کے متعلق امام ابویوسف اورامام محمد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع