30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حجر ہے تو بوجہ سفہ یا دین اور یہاں دونوں مفقود توحجر محض باطل ومردود،یہ حکم قضا ہے،رہا حکم دیانت اس کا تعلق آخرت سے ہے قاضی اس میں دست اندازی نہیں کرسکتا اور دیانۃ بھی بعض ورثہ کو محروم کرنا اس حالت میں منع ہے جبکہ محض بلاوجہ شرعی ہو،اگر ایسا کرے گا گنہ گار ہوگا،حدیث میں فرمایا:"جو اپنے وراث کے میراث سے بھاگے اﷲ تعالٰی جنت سے اس کی میراث قطع فرمائے گا"والعیاذ باللہ۔(رواہ ابن ماجہ [1]وغیرہ)
ورنہ اگر۱۵وہ وارث مسرف ہے کہ مال فضول تباہ وبرباد کرے گا یا فاسق ہے کہ مال ملنے سے اس کے فسق وفجور کو مدد پہنچے گی یا بدمذہب ہے کہ فسق عقیدہ فسق عمل سے بد ترہے اور اسے مال ملنے سے دین پر احتمال ضرر ہے تو ان صورتوں میں دیانۃ بھی وہ ایسے وارثوں کو محروم کرسکتاہے۔
بہرحال کچھ بھی ہو کوئی دوسرا اس کے تصرف میں رکاوٹ نہیں کرسکتا،نہ کسی مدعی کو دعوی پہنچتا ہے نہ کسی حاکم کو حکم کہ وہ اپنے خاص ملك میں متصرف ہے ۱۶ان کہ نہ ملك ہے نہ حق پھر مزاحمت کیا معنی،بشیر بن الخصاصیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنے صاحبزادہ نعمان رضی اﷲ تعالٰی کو ایك غلام ہبہ کیا اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت انورمیں حاضرہوئے کہ ان کی ماں رضی اﷲ تعالٰی عنھا چاہتی ہیں کہ حضور اس پر گواہ ہوجائیں ارشاد فرمایا:اکل بنیك نحلت مثل ھذا کیا تم نے سب بیٹوں کو ایسا ہی ہبہ کیا ہے؟ عرض کی:نہ۔فرمایا:لا تشہد نی علی جور [2]مجھے جور پر گواہ نہ کر،یہ حکم دیانت کی طرف اشارہ تھا اسے قضاسے کوئی تعلق نہیں کہ نہ کوئی مدعی تھا نہ تنازع ا ور۱۸قضا بے خصم حاضر ناممکن ہے۔بالجملہ اس کا روائی پر کسی کو اختیار دعوٰی ومزاحمت اصلا نہیں ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔۱الاشباہ ص ۲۶۳:
|
قال فی الفتح القدیر الملك قدرۃ یثبتہا الشارع ابتداء علی التصرف فخرج نحوالوکیل اہ وینبغی ان یقال |
فتح القدیرمیں ہے:ملك ایسی قدرت ہے جس کو شارع نے ابتداء تصرف کے لئے ثابت کیا ہو تو اس سے وکیل خارج ہو گیا اھ"بغیر مانع" |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع