30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اطلق ذٰلك فافادانہ لافرق بین ان یکون کبیرین اوصغیرین اواحدھما کبیرا والاخرصغیرا وفی الاولین خلافھما [1]۔ |
اس کو مطلق بیان کیا تو اس کا فائدہ یہ ہے کہ موہوب لہ دونوں بالغ ہوں یا نابالغ یا ایك بالغ اورایك نابالغ ہو پہلی دو صورتوں میں صاحبین کا خلاف ہے۔(ت) |
اور فتوٰی ہمیشہ قول امام پر ہوتاہے
|
کما حققناہ فی رسالتنا اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام |
جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ"اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام"میں کی ہے(ت) |
امام اجل برہان الملۃ والدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید میں فرماتے ہیں:
|
الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ بکل حال [2]۔ |
میرے نزدیك واجب ہے کہ ہر حال میں فتوٰی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول پر دیا جائے۔(ت) |
یہ کہیں نہیں ہے کہ معاملات میں فتوٰی قول امام ابی یوسف پر ہے،ہاں مسائل وقف وقضا میں ایسا کہا گیا وہ بھی نہ کلیہ ہے نہ اعطائے قاعدہ کہ ائمہ ترجیح کافتوٰی دیکھو یا نہ دیکھو مسائل کتاب القضا وکتاب الوقف میں قول ابی یوسف پر فتوٰی سمجھ لو ایسا نہیں بلکہ بلحاظ کثرت بیان واقع ہے ان دونوں کتابوں کے خلافیات میں مشائخ نے بہت جگہ قول ابی یوسف اختیار کیا ہے یہ فتوٰی انھیں مواضع پر مقتصر رہے گا،کما افادہ فی ردالمحتار ولا یمتری فیہ من لہ ممارثۃ بالفقۃ(جیساکہ افادہ ردالمحتار میں کیا اور جس کو فقہ میں ممارثت ہے وہ اس میں شك نہ کریگا۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱: از شہر کانپور محلہ انور گنج مرسلہ سید محمد باقر حسین پسر سید علی حسین خاں بہادرمرحوم ۱۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے کاروبار کے بہی کھاتے میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع