30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلا شبہ صحیح وتام ولازم ہوگیا،نہ مشاع ہونا اس کی صحت کو مضر،نہ موہوب لھما کا قبضہ ہونا اس کی تمامی کوضرور کہ جب وہ دونوں مالك نصاب نہ تھے تو ان کے لئے ہبہ صدقہ ہوا اور ایسا شیوع صحت صدقہ کا مانع نہیں اور جبکہ وہ یتیم ونابالغ ہیں تو دادا کا قبضہ بعینہٖ ان کا قبضہ ہے،ہبہ کرتے ہی تام ولازم ہوگیا، درمختارمیں ہے:
|
(او وھبہا لفقیرین صح)لان الھبۃ للفقیر صدقۃ والصدقۃ یرادبہا وجہ اﷲ وھو واحد فلا شیوع [1] |
(یامشاع چیز دو فقیروں کوہبہ کرے تو صحیح ہے)کیونکہ فقیر کو ہبہ کرنا صدقہ ہوتاہے اور صدقہ اﷲ تعالٰی کی رضا جوئی کےلئے ہوتاہے جبکہ وہ وحدہ لاشریك ہے،تو شیوع نہ ہوگا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقدۃ لو الموھوب معلوما وکان فی یدہ او فی ید مودعہ لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب [2]۔ |
اوربچے کے والی کا بچے کو ہبہ کرنا عقد سے تام ہوجاتاہے بشرطیکہ موہوب چیز معلوم ہو اور ولی کے قبضہ میں ہویا اس کی امانت والے کے قبضہ میں ہو،کیونکہ ولی کا قبضہ بچے کے قبضہ کے قائم مقام ہوگا،اور اس میں ضابطہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایك شخص فریقین کی طر ف سے ولی بن سکتاہو تو ایسے عقد میں صرف ایجاب کافی ہوا ہے)(ت) |
ہاں اگر وہ دونوں یتیم یا ایك غنی ومالك نصاب تھا تو سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك یہ ہبہ صحیح نہ ہوا اور موت واہب سے باطل ہوگیا،تنویر الابصار میں ہے:
|
وھب اثنان دارا لواحد صح وبقلبہ لا [3]۔ |
دو افراد نے ایك شخص کو مشاع چیز ہبہ کی تو جائز ہے اور اگر عکس ہوتو ناجائز ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع