30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
لایصح الرجوع الابتراضیہما اوبحکم الحاکم [1] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
باہمی رضامندی سے یاحاکم کے حکم سے ہی رجوع صحیح ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۳۶:از اودے پور میواڑ راجپوتانہ اسٹیٹ محلہ افیم کاکانٹہ برمکان محمد حیات صاحب انجئیر مسئولہ نیاز الحسن صاحب ۶ جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں موافق مذہب حنفی کے کہ زید کے دولڑکے ہیں بکر وعمرو،اب زید نے اپنی جائداد عمرو کو ہبہ کرکے اس پر عمرو کا قبضہ کرادیا اور بعد وفات زید کے عمرو نے جائداد موہوبہ اپنی زوجہ مسماۃ امیرن کو بالعوض مہر بخشش کردی اور بعد وفات امیرن کے عمرو نے اپنے بھائی بکر کو ایك خط لکھا جس میں یہ لکھا ہے کہ جائداد مذکورہ کے تم مالك ہو اورعمرو کے امیرن کے بطن سے دو لڑکے ہیں خالد و ناصر اب بکر مدعی ہے کہ جائداد کا مالك میں ہوں،اورخالد وناصر مدعی ہیں کہ مالك ہم ہیں،شرعا مالك و وارث کون قرار دیاجاسکتاہے۔
الجواب:
جب زید نے عمرو کو ہبہ کرکے قابض کردیا اور عمرو نے امیرن کے مہر میں دے دی امیرن مالك ہوگئی،عمرو کو کوئی اختیارنہ رہا کہ اپنے بھائی کو اس کا مالك کردے،جائداد بقدر حصہ خالد وناصر کی ہے،ہاں چہارم عمرو کوحصہ شوہری میں ملی اسے اپنے بھائی کو یا جسے چاہے ہبہ کرسکتاہے مگر ابھی نہیں بلکہ بعد تقسیم اپنا چہارم الگ متمیز کراکر ہبہ کرسکے گا ورنہ اس کا ہبہ بھی باطل۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷: از رائے بریلی یونانی دواخانہ کبیر گنج مسئولہ محمد عظیم عطار ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے جو اس کے ذاتی دو مکان تھے اور اس کی ایك لڑکی اور ایك لڑکا تھا،منجملہ دو قطعہ مکان کے ایك مکان خورد لڑکی کواور مکان کلاں لڑکے نرینہ مع کل اسباب وغیرہ کے اپنی حیات میں ہبہ کرکے رجسٹری کرادی اور یہ الفاظ بھی رجسٹری میں تحریر کئے کہ چونکہ لڑکی مؤنث اور داماد میری خدمت گزاری کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ ہی رہتی ہوں اورحق شرع بھی قریب قریب اسی کے ہوتا بخیال دور اندیشی واقع متنازع آئندہ کے ہبہ کرتی ہوں اور قبضہ بھی دیتی ہوں لیکن بوجہ جھگڑا فساد کے کچھ عرصہ تك قیام کرکے لڑکی اپنے دوسرے ذاتی مکان میں اٹھ گئی اورنیز برادران نے زبردستی جبر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع