30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہرحال وہ کل مکان یا صرف عملہ اور زمین کا حصہ یا دونوں کا حصہ جو کچھ ملك شوہر ٹھہرے اورایسے ہی اس کے اور املاك ان میں اسی کی حیات میں کسی کا دعوٰی نہیں،ہاں وہی تقسیم کرنا چاہئے توچاروں بیٹے بیٹی کو برابر دینا چاہئے۔پہلے جوان کے خرچ خوراك یا تعلیم یا شادی میں لگاچکا وہ اس حسے میں مجرا نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵: از بمبئی ڈاکخانہ نمبر ۹ ائسکریم ہوٹل مسئولہ مولوی احمد مختار صاحب ۵ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے منگنی کے وقت کچھ زیور وغیرہ اس عورت کےلئے دیا جس کے ساتھ اس کی منگنی قرار پائی،چند ماہ بعد عقد نکاح کے لئے آیا تو کچھ کپڑے بھی پیش کئے بعد ازاں اس کا عقد سی عورت کے ساتھ ہوگیا زیور اور کپڑوں کا اس عورت کو جماعت کے سامنے پیش کئے بعد ازاں اس کا عقد اسی عورت کے ساتھ ہوگیا زیور اور کپڑوں کا اس عورت کو جماعت کے سامنے مالك بنادیا تھا اب کچھ عرصہ بعد اس نے عورت کو طلاق دے دی اور زیور کپڑے جو چڑھائے تھے وہ سب چھین لئے،پس یہ واپسی جائز ہے یانہیں،اکثر کتب فقہیہ میں ہے کہ قبل از عقد جو کچھ دیا ہے اس کی واپسی کا شوہر کو اختیار ہے بعد از عقد جو چاہے وہ نہیں لے سکتا۔
الجواب:
فی الواقع بعد نکاح جو کچھ تملیکا دیا اس سے رجوع نہیں کرسکتا اور قبل نکاح جو کچھ دیا اسے بے مرضی زن واپس لینا گناہ ہے اورخود چھین لینے کا ہرگز اختیار نہیں بلکہ عورت نہ دے،نالش کرکے بحکم قاضی لے سکتا ہے اور گناہگاراس میں بھی ہوگا کہ صحیح حدیث میں فرمایا:
|
العائد فی ھبتہ کالکلب یعود فی قیئہ لیس لنا مثل السوء [1]۔ |
یعنی بُری مثال مسلمان کے شایاں نہیں دے کر لینے والا کتے کی طرح ہے کہ قے کرکے پھر چاٹ لیتاہے۔ |
درمختارمیں دربارہ موانع رجوع ہے:
|
والزوجیۃ وقت الھبۃ فلووھب لامرأۃ ثم نکحہا رجع ولو وھب لامرأتہ لا [2]۔ |
ہبہ کے وقت منکوحہ بیوی ہونا،لہذا اگر کسی عورت کوھبہ کرکے بعد میں اس سے نکاح کیا تو ہبہ میں رجوع کرسکے گا اور اگر بیوی کوہبہ کیا رجوع نہ کرسکے گا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع