30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیگر ورثہ باطل۔عالمگیری میں تاتارخانیہ سے ہے:
|
وھب الرجل فی مرضہ غلاما لابنہ ولابنہ علی ھذا الغلام دین فان صح فہو جائز وان مات فصار للورثۃ عاد دینہ [1]۔ |
ایك شخص نے اپنی مرض موت میں اپنے بیٹے کو غلام ہبہ کیا جبکہ اس بیٹے کا غلام پر دین تھا اگر صحیح ہوجائے تو جائز ہے اور اگراس مرض میں فوت ہوجائے تو غلام واپس اس کے ورثاء کی ملکیت بن جائے گا اور بیٹے کاغلام پر قرض بحال ہوجائے گا۔(ت) |
اسی میں جامع المضمرات سے ہے:
|
مریضۃ وھبت صداقہا من زوجہا فان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ [2]۔ |
مریضہ نے خاوند کو اپنا مہر ہبہ کیا اگر مرض الموت میں ہو تو ورثاء کی اجازت کے بغیر یہ ہبہ صحیح نہ ہوگا۔(ت) |
عبارات مذکورہ سوال کابھی یہی مطلب ہے دوماہ بعد تك برضاء کل قابض متصرف رہنے سے اگریہ مراد ہے کہ بقیہ ورثہ نے اس کے نام اس ہبہ کو جائز کردیاا ور اس پر اپنی رضا کی تصریح کردی تو بلاشبہ غلام احمد مالك مستقل ہوگیا جبکہ باقی سب ورثہ عاقل بالغ اہل اجازت ہوں اور اب ان کو اس اجازت سے رجوع کا اختیار نہیں،اوراگر ان کے مجرد سکوت وعدم منازعت کو رضا قرار دیا ہے تو اتنی قلیل مدت تك سکوت دلیل رضانہیں ان میں کل یا بعض جواجازت نہ دے چکا ہو منازعت کرسکتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۴: از شہر بریلی ۲۹ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ڈیڑھ سوروپیہ کی ڈیڑھ سوگز زمین خرید کراپنی عورت کے نام کردی اس پر عملہ بھی شوہر نے بنوایا،بیاہتا عورت فوت ہوگئی،اس کی اولاد ایك لڑکا ایك لڑکی جن کے تمامی حقوق سے ادا کرچکا،اب دوسری شادی کرلی ہے اس سے دولڑکے ہیں اب وہ شخص چاہتاہے کہ میری زندگی میں فیصلہ ہوجائے تاکہ بعد میرے مرنے کے جھگڑا نہ ہو توآیا پہلی عورت کی جو اولاد ہے ایك لڑکا ایك لڑکی ان کو اس جائداد سے کیا پہنچتا ہے اور جو دوسری عورت سے دو لڑکے ہیں ان کو اس جائداد سے کیا حق پہنچتاہے،تعداد جائداد کی ایك ہزار روپیہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع