30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور فتاوٰی عالمگیریہ مترجم جلد سوم میں ہے کہا:وھبت ھذا الشیئ لك اوملکتہ منك یعنی یہ شے تجھے ہبہ کی یا تجھے اس کا مالك کیا اور جعلتہ لك او ھذالك یا میں نے تیرے واسطے کردی یا یہ شے تیرے واسطے ہے اواعطیتك اونحلتك یا میں نے تجھے عطا کی یا نحلہ دی فہذا کلہ ھبۃ(یہ تمام صورتیں ہبہ کی ہیں۔ت)[1]
اورنیز فتاوٰی عالمگیری مترجم مذکور میں ہے"کتاب الاصل میں مذکور ہے کہ مریض کاہبہ یا صدقہ جائز نہیں ہے مگر جبکہ اس پر قبضہ ہوجائے اور جب قبضہ ہوگیا تو تہائی مال سے جائز ہے اور اگر سپرد کرنے سے پہلے واہب مرگیا تو ہبہ باطل ہوگیا"[2]۔
اور جاننا چاہئے کہ مریض کاہبہ کرنا قصدا ہبہ ہے وصیت نہیں ہے اور تہائی مال اس کا اعتبار کرنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ وصیت ہے بلکہ اس واسطے ہے کہ وارثوں کا حق مریض کے مال سے متعلق ہوتاہے اور اس نے ہبہ کردینے میں احسان کیا تو اس کا احسان اس قدر مال سے ٹھہرایاجائےگا جتنا شرع نے اس کے واسطے قرار دیا ہے یعنی ایك تہائی اور جب یہ تصرف عقد ہبہ ٹھہرا یا گیاتو جو شرائط ہبہ کے ہیں وہ مرعی ہونگے،اور از انجملہ ایك شرط یہ ہے کہ واہب کے مرنے سے پہلے موہوب لہ اس پرقبضہ کر لے،یہ محیط میں ہے اور درمختار میں ہے:
|
یمنع الرجوع فیہا حروف دمع خزقہ [3]۔ |
ہبہ سے رجوع کرنے سے یہ حروف"دمع خزقہ"بین الورثہ شرعا منقسم ہونگی |
پس ان عباراتِ کتب معتبرہ سے کیا استخراج ہو سکتا ہے اور کس طور حصص بطور ہبہ یا وراثت فیما بین الورثۃ شرعًا منقسم ہونگی۔
الجواب:
مرض الموت میں ہبہ اگر چہ حقیقۃ ہبہ ہے فلہذا قبضہ شرط ہے اور مایقسم میں مشاع ناجائز مگر حکما وصیت ہے ولہذا بے اجازت ورثہ ثلث سے زائد میں نافذ نہیں اور وارث کے لئے بے اجازت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع