30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی البزازیۃ عن المحیط لو ابراء احد الورثۃ الباقی ثم ادعی الترکۃ وانکر لاتسمع دعواہ وان اقروابالترکۃ امروابالرد علیہ [1]۔ |
بزازیہ میں محیط سے منقول ہے اگر ایك وارث نے باقی ورثاء کو بری کردیا اور پھر بعد میں اس نے ترکہ کا دعوٰی کردیا اور باقی ورثاء انکار کردیں تو اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا اور ورثاء اقرار کریں تو ان کو ترکہ واپس کرنے کا حکم ہوگا۔(ت) |
ابھی ردالمحتارسے گزرا:لواقربہ الخصم یلزمہ [2](اگر فریق مخالف اس کا اقرار کرے اس کو لازم ہوجائے گا۔ت)
سابعًا: ان بیانات سے روشن ہوا کہ دعوٰی شرم خاتون شرعا دیانۃ اور قضاء ہر طرح مسموع ہے،اب رہا نہی سلطانی کا شبہ،اگر قانون ریاست بہاولپور میں مسئلہ تمادی جب تو ظاہر کہ وہاں کے قضاۃ ہر گز ممنوع عن السماع نہیں ا ورا گر ہے لیکن بحال وجوداقرار مدعی علیہ موثر نہیں جیسا کہ حکم شرعی ہے جب بھی اسے یہاں سے تعلق نہیں کما تقدم۔ردالمحتارجلد ۴ص۵۳۱:
|
نقل فی الحامدیۃ فتوی ترکیۃ عن المولٰی ابی السعود وتعریبہا اذا اترکت دعوٰی الارث بلاعذر شرعی خمس عشرۃ سنۃ فھل لاتسمع الجواب لاتسمع الا اذا اعترف الخصم بالحق ونقل مثلہ شیخ مشائخنا الترکمانی عن فتاوی علی اٰفندی مفتی الروم ونقل مثلہ ایضا شیخ مشائخنا ا لسائحانی عن فتاوی عبد اﷲ افندی مفتی الروم [3]۔ |
حامدیہ میں مولٰی ابی السعود کاترکی فتوٰی نقل کیا ہے جس کا عربی ترجمہ یہ ہے جب شرعی عذر کے بغیر پندرہ سال تك وراثت کادعوٰی نہ کیا ہو تو کیا اب قابل سماعت نہ ہوگا۔الجواب، فریقن مخالف کے اعتراف کے بغیر قابل سماعت نہ ہوگا،اسی کی مثل مفتی روم علی آفندی کا فتوٰی ہمارے مشائخ کے شیخ ترکمانی سےنقل کیا ہے اور مفتی روم عبداﷲ آفندی کا فتوٰی ہمارے مشائخ کے شیخ سائحانی نے بھی اس کی مثل نقل کیاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع