30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولامنازع لہ حنیئذ ثم ادعاہ احد فقال ذوالید ھو لی فالقول لہ لان الاقرار بمجہول باطل والتناقض انما یمنع اذا تضمن ابطال حق علی احد اھ ومثلہ فی الفیض وخزانۃ المفتین [1]۔ |
الفاظ کہے جبکہ اس وقت کسی نے تعرض نہ کیا پھر کسی نے اس مقبوضہ چیز پر دعوٰی کردیا تو اس کے جواب میں اس نے کہا یہ میری چیز ہے تو اس کایہ کہنا معتبر ہوگاکیونکہ پہلااقرار تھا جوباطل ہے۔اورتناقض تب ہوتا کہ وہ کسی کے لئے حق کااقرار کرتا اھ اوراس کی مثل فیض اورخزانۃ المفتین میں بھی ہے۔(ت) |
سادسًا: ایك شخص دوسرے کو مدت تك کسی شے میں مالکانہ تصرف کرتے دیکھے اور بلاعذر ساکت رہے پھر کہنے لگے کہ یہ تومیری ملك ہے علماء کرام نے قطع تزویر وحیل کے لئے اس کا دعوٰی نامسموع رکھا ہے اوریہ حکم فقہی ہے،نہ بربنائےمنع سلطانی۔اس کی بعض عبارات فتاوی بہاولپور میں ہیں اور کثیر ووافر ہمارے فتاوٰی میں یہ حکم دیانۃ نہیں محض قضاء ہے کہ نظر بظاہر حال ممانعت فرمائی کما نصوا علیہ(جیسا کہ اس پر نص کی گئی ہے۔ت)سائل نے سوال ہی میں اس کااشعار کردیا تھا کہ باوجود اطلاع علی التصرف قضاء دعوٰی اس کا قابل سماعت ہے نہ،مجیب نے تصریح کردی تھی کہ صحت قضاء کے لئے دعوٰی شرط ہے،اور وہ یہاں نہیں دعوٰی قضاء قابل اخراج ہے،اور یہ عبارت کہ الحق لایسقط بتقادم الزمان [2] (زمانہ گزر جانے پر حق ساقط نہیں ہوتا۔ت)حکم دیانت ہے تو اس کے مقابل اسے پیش کرنا فتوٰی دیوبند کی حماقت ہے ان محقق شامی نے جن کے مسائل شتی آخر الکتاب کا حوالہ دیا اس جگہ فرمادیا تھا۔ج ۵ ص ۷۲۶:
|
ثم اعلم ان عدم سماعہا لیس مبینا علی بطلان الحق حتی یردان ھذا قول مہجور لانہ لیس ذلك حکماببطلان الحق وانما ھو ا متناع من القضاۃ عن سماعہا خوفا من التزویر |
پھر معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا عدم اسماع کسی حق کے بطلان پر مبنی نہیں تاکہ اعتراض ہوسکے کہ ا س کایہ دوسرا قول مہجور ہے کیونکہ یہ کسی حق کے بطلان کا حکم نہ تھا بلکہ یہ تو قاضیوں کا ترکہ سماع اس خوف کی بناء پر تھا کہ من گھڑت معاملہ ہوسکتا ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع