30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولاسیما انہ یکون ملکا خیبثا کما یأتی ویکون مضمونا کما علمتہ فلم یجد نفعا للموھوب لہ فاغتمہ [1]۔ |
خصوصا خبیث ملکیت ہوجیسا کہ عنقریب آئیگا اور مضمون ہوجیسا کہ تو معلوم کرچکا ہے،تو وہ موہوب لہ کو مفید نہیں ہے،اسے غنیمت سمجھو۔(ت) |
رابعا مسئلہ ابراء عن الاعیان اگر یہاں سے متعلق ہوتا تو اس کا اثر صرف قضا پر تھا دیانۃ اپنی مملوکہ عین سے سو بار ابراء کرے ملك زائل نہ ہوگی اورجب ملے لے سکے گا،درمختار اوائل الصلح۔
|
قولھم الابراء عن الاعیان بطل معناہ لم یصر ملکا للمدعی علیہ ولذالو ظفر بتلك الاعیان حل لہ اخذھا لکن لاتسمع دعواہ فی الحکم [2]۔ |
ان کافرمانا کہ عین موجود چیز سے بری کرنا باطل ہے،اس کا معنی یہ ہے کہ مدعی علیہ کی ملك نہ بنے گا لہذا دینے والااگر قابو پاکر اسے لے لے تو لینا جائز ہوگا لیکن قاضی کے ہاں اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا۔(ت) |
ردالمحتار ج ۴ ص ۷۲۷:
|
نقل الحموی عن حواشی صدرالشریعۃ للحفید معنی قولنا البرأۃ عن الاعیان لاتصح ان العین لا تصیر ملکا للمدعی علیہ لاان یبقی المدعی علی دعواہ الخ ابوالسعود وھذا اوضح مما ھنا قال السائحانی و الاحسن ان یقال الابراء عن الاعیان باطل دیانۃ لاقضاء [3]۔ |
حموی نے صدرالشریعۃ کے پوتے کے لئے حواشی سے نقل کیا، اعیان اشیاء سے براءت صحیح نہیں ہمارے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ عین چیز مدعی علیہ کی ملك نہ بنے گی،اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مدعی کا دعوٰی قائم ہے الخ ابو السعود نے کہا یہاں پر سائحانی نے جو فرمایا اس سے یہ زیادہ واضح ہے اور یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اعیان اشیاء سے بری کرنادیانۃ باطل ہے قضاء باطل نہیں۔(ت) |
مگر صورت مسئولہ میں کوئی ابراء ابتداء نہیں بلکہ اس ہبہ ناجائز پر مبنی ہے جس پر اس کی یہ عبارت شاہد ہے کہ بعد الیوم سے مظہرہ وورثائے مظہرہ کا بابت کل حصص یعنی جمیع جائداد کے کوئی دعوٰی ودخل نہیں ورنہ ہوگا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع