30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہنچتا ہے اور بالاجماع رجوع کرسکتاہے اگر چہ یہ ہبہ ذورحم محرم کو کیا ہو حالانکہ وہ مانع رجوع ہے اور جس طرح واہب کودعوٰی پہنچتاہے اگر وہ مرجائے اس کا وارث دعوٰی کرسکتاہے حالانکہ موت احدالعاقدین بھی مانع رجوع ہے اور اگر شیئ موہوب، موہوب لہ کے پاس تلف ہوجائے اس کا تاوان واہب کو دے حالانکہ موہوب بھی مانع رجوع ہے اور وجہ وہی ہے کہ ان بعض کے نزدیك بھی یہ ملك صحیح نہیں بلکہ خبیث ہے اور عقد فاسد وواجب الرد ہے،فتاوٰی خیریہ ج ۲ ص۱۰۲ بعد عبارت مذکورہ:
|
ومع افادتھا اللملك عندھذا البعض اجمع الکل علی ان للواہب استرداداھا من الموھوب لہ ولو کان ذارہم محرم من الواھب قال فی جامع الفصولین رامز الفتاوٰی الفضی ثم اذا ھلکت افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذا الفاسدۃ مضمونۃ علی مامرۃ ذاکانت مضمونۃ بالقیمۃ بعد الہلاك کانت مستحققۃ الرد قبل الھلاك انتہی وکما یکون للواھب الرجوع فیھا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونھا مستحقۃ الرد وتضمن بعد الھلاك کالبیع الفاسد اذا مات احد المتبایعین فلورثتہ نقضہ لانہ مستحق الرد و مضمون بالھلاك [1]۔ |
اس کے باوجود کہ بعض کے نزدیك یہ ہبہ مفید ملك ہے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وھب کو اس میں رجوع کا حق ہے اگر چہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم ہو،جامع الفصولین میں فتاوٰی فضلی کی رمز سے فرمایا کہ پھر اگر ہلاك ہوجائے تو میں نے فتوٰی دیا کہ محرم کو فاسد ہبہ دینے ہیں واہب کو رجوع کا حق ہے کیونکہ فاسد ہبہ مضمون ہوتاہے جیسا کہ گزرا تو جب ہلاك ہوجانے پر قیمت برابر ضمان ہے تو ہلاك ہونے سے قبل واپس لینے کا حق ہے اھ اور جیسے واہب کو رجوع کا حق ہے تو اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو رجوع کا حق ہوگا کیونکہ وہ قابل واپسی ہے او ایسا ہوجانے پر اس کا ضمان دینا ہوگا جیسا کہ فاسد بیع میں کوئی فریق فوت ہوجائے تو ا س کے ورثاء کو بیع ختم کرنے کا اختیار ہے کیونکہ وہ قابل واپسی ہے اورہلاك ہوجانے پر مضمون ہے۔(ت) |
ولہذا ردالمحتار ص ۷۸۱ میں بعد عمارت مذکورہ بحال تنزل بقول دیگر اس کا محض نامفید ہونا یوں ظاہر فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع