30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابوحنیفۃ یعتبر الشیوع عندالقبض وھما یعتبرانہ عندالعقد والقبض وھما جوز اھا لانہ لم یوجد الشیاع فی الحالین بل وجد احدھما دون الاٰخر [1]۔ |
امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قبضہ کے وقت شیوع کا اعتبار کرتے ہیں اور صاحبین عقد اور قبضہ دونوں میں اعتبار کرتے ہیں تو امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایك شخص کا دو افراد کو قابل تقسیم چیز کا ہبہ کرنا جائز نہیں کرتے کیونکہ قبضہ میں شیوع پایا جائے گا۔اورصاحبین اس کو جائز فرماتے ہیں کیونکہ عقد اور قبضہ میں شیوع نہیں ہے،بلکہ صرف قبضہ میں شیوع ہے عقد میں نہیں۔ (ت) |
بالجملہ اگر شیوع صرف وقت عقد ہونہ وقت قبض جیسے دو شخص اپنا مکان مشترك جس میں تیسرا شریك نہیں شخص واحد کو ہبہ کرکے ایك سابقہ قبضہ دے دیں یہ صورت بالاجماع جائز ہے،کنزو تنویر وعامہ متون میں ہے:وھب اثنان دارالواحد صح [2] (دوافراد نے ایك شخص کو مکان ہبہ کیا تو جائز ہے۔ت)اوراگر صرف وقت قبض ہو نہ وقت عقد جیسے ایك شخص اپنا مسلم مکان دو کو ہبہ کرے یہ امام کے نزدیك ناجائز اور صاحبین کے جائز،متون میں بعد عبارت مذکورہ ہے،لاعکسہ [3](ا س کا عکس نہیں ہے۔ت)تبیین وغیرہ شروح میں ہے:ھذا عندہ وقالایجوز [4](یہ امام صاحب کے نزدیك ہے۔صاحبین فرماتے ہیں جائز ہے۔ت) اور اگر عقد وقبض دونوں میں شیوع ہو جیسے ایك شخص کسی مکان یا گاؤں میں اپنا غیر منقسم حصہ کسی کو ہبہ کرے یا ایك مکان کے دو شریك ہیں ایك اپنا حصہ زید کو دوسرا عمرو کو ہبہ کریں اگر چہ معا ہبہ کیا اور معا قضہ دیا ہو،یہ صورتیں بالاجماع ناجائز ہیں، تبیین ج ۵ ص ۹۷:
|
الاتری ان رجلین لووھبا رجلین علی ان نصیب احدہما لاحدہما بعینہ ونصیب الاٰخر للاخر لایجوز الاجماع [5]۔ |
آپ دیکھیں گے کہ دو حضرات اگردو اشخاص کو اس طرح ہبہ کریں کہ ایك کاحصہ ایك کو اور دوسرے کا حصہ دوسرے کو معین طوپر ملے تو بالاتفاق جائز نہیں۔(ت) |
[1] بدائع النصائع کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۲۱
[2] درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱
[3] کنزالدقائق کتاب الھبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۰۹
[4] تبین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۵ /۹۶
[5] تبین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۵ /۹۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع