30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول:بیانہ ان الترکۃ فی یداحد الورثۃ امانۃ فاذا انکرھا اومنعہا صار غاصبا [1] |
میں کہتاہوں اس کا بیان یہ ہے کہ ترکہ کسی ایك وارث کے قبضہ میں ہو تو وہ امانت ہے اگر وہ اس سے انکا ر کردے یانہ تو غاصب ہوجائیگا۔(ت) |
(تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۷۵ سطر ۱۸ فصل التخارج)اور قبضہ امین موہوب لہ کے لئے تجدید قبض کی ضرورت نہیں تو ہبہ صحیح وتام ہوگیا(روایت):
|
وملك بالقبول بلاقبض جدید لوالموھوب فی ید الموھوب ولو قبض اوامانۃ لانہ عامل لنفسہ [2]۔ |
اگر موہوب چیز موہوب لہ کے قبضہ میں ہو تو قبول کرنے سے قبضہ جدید کے بغیر مالك ہوجائے گا اگر چہ بطور قبضہ سابق ہو یا بطور امانت ہو کیونکہ قبول کا عمل اپنے لئے ہی ہوگا۔ (ت) |
(درمختار کتا ب الہبہ)اور مدعیہ جب تصرف مدعاعلیہ پر مطلع رہ کر ساکت رہی ہے اور ابراء عن الدعوی بھی لکھ دیا ہے اور میعاد سماعت دعوٰی کا بھی گزر گیا ہے تو قضاء دعوٰی ا س کا قاتل سماعت نہیں(بروایت ذیل):
|
وفی الحامدیۃ عن الولوالجیۃ رجل تصرف زمانا فی الارض ورجل اٰخر رأی الارض والتصرف ولم یدع و مات علی ذٰلك لم تسمع بعد ذٰلك دعوی ولدہ تترك علی ید التصرف لان الحال شاھد [3](وبعد اسطر)واذ ا کان المدعی ناظر اومطلعا علی تصرف المدعی علیہ الی ان مات المدعی علیہ لاتسمع الدعوی |
حامدیہ میں ولوالجیہ سے منقول ہے،ایك شخص زمانہ سے ایك زمین میں تصرف کررہاہے اور دوسرا شخص زمین اور تصرف کو دیکھ رہا ہے اور کوئی دعوٰی کئے بغیر فوت ہوگیا تو اس کی اولاد کا دعوٰی اس میں مسموع نہ ہوگا اور وہ تصرف کرنے والے کے قبضہ میں رہے کیونکہ حال شاہد ہے(اور چند سطروں بعد فرمایا) جب مدعی،مدعی علیہ کے تصرف پر مطلع اور دیکھ رہا ہو حتی کہ مدعی علیہ اپنے تصرف پر فوت ہوا تو اب اس کے ورثاء پر مدعی کا دعوٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع