30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اولًا:موہوب لہ واہب کا بیٹا ہے اور ذی رحم محرم سے رجوع کا خود واہب کو بھی اختیار نہیں،
ثانیًا: موہوب لہ مرگیا،
ثالثًا:واہب بھی گزر گیا اور اس میں ہر ایك کی موت مانع رجوع ہے تو اب رجوع ناممکن ہے اور وہ شرط قبضہ تخلیہ اس صورت میں ہے کہ موہوب لہ وقت ہبہ بالغ ہو،اور اگر نابالغ تھا تو باپ نے جس وقت ہبہ نامہ لکھ دیا اس سے پہلے جس وقت زبانی کہا میں نے ہبہ کیا معًا ہبہ کرتے ہی بیٹا مالك ہوگیا اگر چہ باپ نے ایك آن کو مکان نہ خالی کیا نہ قبضہ دیا کہ اس صورت میں باپ کا قبضہ ہی بیٹے کا قبضہ ہے اور رجوع ناممکن،درمختارمیں ہے:
|
یمنع الرجوع فیہا موت احد العاقدین بعد التسلیم والقرابۃ فلو وھب الذی رحم محرم منہ نسبا لا یرجع [1](ملخصا) |
قبضہ دینے کے بعد کسی فریقین کی موت اور قرابت رجوع سے مانع ہے تو اگر کسی مجر م کوھبہ کیا رجوع نہ ہوگا(ملخصا)۔ (ت) |
اسی میں ہے:
|
الاصل ان الموہوب ان مشغولابملك الواھب منع تمامہا وان شاغلا لاوفی الاشباہ ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ [2](ملخصا) |
ضابطہ یہ ہے موہوب چیز اگر واہب کی ملك میں مشغول ہو تو ہبہ کے تام ہونے سے مانع ہے اگر وہ شاغل ہو تو مانع نہ ہوگا۔ اور الاشباہ میں ہے مشغول چیز کاہبہ کرنا جائز نہیں۔ہاں اگر والد اپنے طفل کو ہبہ کرے تو جائز ہے۔(ملخصا)(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع