30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہر حال فیصلہ غلط ہوا غلام عباس کا اس باغ وزمین میں حق نہیں،وہ صرف وارثان شرعی کا حق ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷: از شہر کہنہ گھیر جعفر خان مسئولہ حکیم عرفان علی صاحب ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد کو جو اس کی مملوکہ ومقبوضہ ہے اور اس پر متصرف ہے اور تنہا مالك بلاشرکت غیرے ہے باختیار جائز و مالکانہ اس جائداد کو بلااکراہ و اجبار اپنی خواہش سے بنظر دور اندیشی ورفع شر اس امر کے کہ بعدمیری وفات کے کسی قسم کا میری اولاد یعنی ایك بیٹااور ایك بیٹی کے درمیان نزاع اورمخالفت نہ ہو تقسیم کیا اس طور سے ایك حصہ تھوڑی مقدار کا لڑکی کو دیا اور زیادہ مقدار کا لڑکے کو دیا اس وجہ سے کہ لڑکی بالغ ہے اور اس کی شادی بھی ہوگئی ہے او وہ خوشحال حالت میں ہے اور اس کے حصہ کی جائداد پرکوئی خرچ کا بار بھی نہیں پڑے گا،اور لڑکا نابالغ ہے اور اس کی پرورش وتعلیم وشادی سب خرچ اس کا بھی اسی جائداد پر پڑنے والاہے اور نیز حسن سلوك شادی وغمی کا خرچ حسب رواج اس کا بار بھی لڑکے ہی کی جائدا د پر ہے اور اپنا اور اپنی زوجہ کابھی خرچ ماہانہ مقرر کرکے سب لڑکے ہی کے حصہ پر رکھا،تو اب ایسی صورت میں یہ فعل اس کا یعنی تقسیم کرنا جائداد کا بلحاظ حصہ پورا ہونے نہ ہونے فرائض کے صحیح ہے یانہیں؟
الجواب:
صحیح بایں معنی کہ وہ کاروائی چل جائے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے تمام وارثوں کا بے خطا بے سبب نان شبینہ کے لئے محتاج چھوڑ کر اپنی تمام املاك کسی راہ چلتے کو دے دے اورا گر یہ مراد کہ ایسی کاروائی کرنی عنداﷲ اسے جائز ہے یا اس پر مؤاخذہ ہوگا تو جواب یہ ہے کہ جن مہمل وجوہ پر زید نے ایك قلیل جز بیٹی کو دیا اور باقی تمام جائداد کثیر بیٹے کود ی،یہ ضرور عنداﷲ ناجائز ہے اور زید گنہگار اور بیٹی کے حق میں گرفتار ہوا شرع مطہر نے بعد موت بیٹی کا ایك اور بیٹے کے دو حصے رکھے ہیں لیکن زندگی میں تقسیم کرے تو حکم ہے کہ پسر ودختر دونوں کو برابر برابر دے قصدًا بلاوجہ شرعی بیٹی کو نقصان دینا جائزنہیں۔ درمختارمیں ہے:
|
فی الخانیۃ لابأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانہا عمل القلب وکذا فی العطایا اذالم یقصد بہ |
خانیہ میں ہے:محبت میں بعض اولاد کو بعض پر فضیلت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ دل کا عمل ہے اور یونہی عطیات میں بھی بشرطیکہ کسی کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع