30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مالك بنادیا ہو۔
الجواب:
اگر اس نے اپنا حصہ جدا جدا تقسیم کراکر ہبہ کیا اور بھانجی کو قبضہ دے دیا یا ہبہ کے بعد تقسیم کرکے حصہ منقسمہ پر قبضہ دے دیا یا وہ مشترك جائداد قابل تقسیم نہ تھی اگر دو حصے کئے جاتے تو ہر حصہ قابل انتفاع نہ رہتا،جیسے کوئی کوٹھری یا چھوٹی دکان تو ان صورتوں میں بعد قبضہ دختر ہبہ تمام ہوگیا اور ماموں کو اس سے واپس لینے کا کوئی حق نہیں اور اگر شیئ قابل قسمت تھی اوربلاتقسیم ہبہ کیا اور اب تك تقسیم کرکے قبضہ نہ دیا تو ہبہ تمام نہ ہوا،اور مالك بنانا ہبہ نہیں عــــــہ اسے واپس لے سکتاہے۔ درمختار میں ہے:
|
لاتتم بالقبض فیما یقسم ولووھبہ لشریکہ لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھو المذھب [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قابل تقسیم چیز کا ہبہ تام نہیں ہوتااگرچہ شریك کو ہبہ کیا ہو کیونکہ اس پر کامل قبضہ کا تصو ر نہیں ہوسکتا جیسا کہ عام کتب میں ہے لہذا یہی مذہب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۲۶: از قصبہ کہورٹی ضلع ساگر قسمت جبل پور ممالك متوسط مرسلہ ابراہیم ولد قمر علی ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ابراہیم کے والد قمر علی تین بھائی حقیقی تھے،منجملہ ہر سہ بھائیوں کے ایك لاولد تھے جن کا نام نعمان حسن تھا،میرے چچا یعنی نعمان حسن نے نکاح ایك بیوہ عورت سے کیا جس کے ہمراہ لڑکا آیا۔لڑکے کی عمر اس وقت ۵ سال کی تھی۔
آپ کو تکلیف دیتاہوں کہ جو کاغذات نقل یعنی فیصلہ کچہری شرع شریف ہوا ہے وہ خدمت میں آنجناب کی ارسال ہے بہ نظر ترحّم کاغذات کو ملاحظہ فرما کر اطلاع دیجئے گاآیا وہ جائداد کا مستحق ہوسکتا ہے یانہیں؟ نعمان حسن نے اس لڑکے کو متبنی نہیں کیا تھا اور اس نے کچہری میں یہی بیان کیا کہ نعمان حسن نے مجھے متبنی کیا،کاغذات متبنی کرنے کے موجود نہیں ہیں جو ہبہ نامہ پیش کیا گیا ہے وہ مصنوعی بناہوا ہے،نہ تو اس میں کوئی گواہ ہے اور نہ حاکم وقت کے دستخط ہیں،نہ تاریخ ہے،غلام عباس متبنی فوت ہوچکا ہے،اور زوجہ نعمان حسن بھی فوت ہوچکی ہے۔
عــــــہ: اصل میں"ہبہ نہیں"کالفظ قلم ناسخ سے چھوٹ گیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع