30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں واپس لے سکتا ہے یانہیں؟ اور نیز وہ زیور کہ جو زوجہ کے باپ کے یہاں کا تھا او رشوہر نے اپنے پاس سے کچھ اور چاندی یا سونا ڈال کر بڑھادیا ہو اس کا کیاحکم ہے آیا ہبہ ہے یا امانت ؟ بینوا توجروا
الجواب:
جو کچھ شوہر نے استعمال کے لئے دیا وہ ملك شوہر ہے مگریہ کہ دلالت تملیك پائی جائے خواہ لفظًا یا عرفًا،اور عورت کا قبضہ ہوجائے تو اب وہ ملك زوجہ ہوجائے گا اور اب اسے کبھی واپس نہیں لے سکتا لان الزوجیۃ من موانع الرجوع(کیونکہ زوجیت موانع رجوع میں سے ہے۔ت)جہیز میں جو زیور وغیرہ عورت کو ملتاہے وہ یقینا ملك زن ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
|
کل احد یعلم ان الجہاز ملك المرأ ۃ لاحق لاحد فیہ [1]۔ |
ہر ایك کو معلوم ہے کہ جہیز عورت کی ملك ہوتاہے اس میں کسی کاحق نہیں ہے۔(ت) |
اس نے جو کچھ اور اس میں ڈلواکر بڑھوادیا ظاہرااس سے مقصود مالك کردینا ہی ہوتاہے اگر یوں ہو اور قبضہ تامہ پایا جائے تو ملك زوجہ ہوجائے گا ورنہ نہیں فان الظاھر حجۃ للدفع لا للاستحقاق[2](ظاہر دفاع کے لئے حجت ہوتاہے استحقاق کےلئے نہیں۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳:مشاع کی تعریف کیا ہے؟ فقط
الجواب:
ایك شیئ دو یاچند اشخاص کو بلاتقسیم ہبہ کی جائے اگرچہ حصے نامزد کردے جائیں کہ نصف نصف یا ایك کو ثلث اور دوسرے کو دو ثلث یا اپنی ملك کا کوئی حصہ غیر معینہ غیر ممتازہ مثلانصف،ثلث،ربع،وغیرہ کسی شخص کو ہبہ کرے یا اپنی پوری ملك ہبہ کرے مگریہ خود کسی شے کے ویسے ہی غیر معین حصے نصف وغیرہ کا مالك ہو،یہ سب ہبہ مشاع ہیں پھر اگر وہ چیز ناقابل تقسیم ہے تو جائز۔ورنہ نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: مرسلہ محمد نجم الدین صاحب محلہ رفعت پورہ مراد آباد ۱۶ صفر ۱۳۳۵ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم،کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدبقضائے الہی اچانك فوت ہوگیا او وہ ایك دولتمند شخص تھا اور اس نے جائداد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع