30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ اگر دختر اس جہیز کے تیار کراتے وقت بالغہ تھی یعنی اسے حیض آلیا تھا یاپندرہ سال کامل کی عمر ہوچکی تھی او رجہیز بنواکر اس کے باپ نے صریح الفاظ تملیك بھی کہہ دئے ہوں،مثلا میں نے اپنی دختر فلانہ کو اس مال کا مالك کیا،جب بھی ازانجا کہ قبضہ دینے سے پہلے اس شخص کا انتقال ہوگیا کہ جہیز پر قبضہ وقت رخصت دیاجاتاہے۔یہاں ابھی عقد بھی نہ ہوا تھا وہ ہبہ باطل محض ہوگیا،بہرحال وہ مال تمام وکمال متروکہ متوفی ہے،ہاں اگر لڑکی اس وقت نابالغہ تھی یعنی نہ اسے آثار بلوغ پیدا ہوئے تھے نہ پورے پندرہ برس کی عمر ہوئی تھی اور اس نے اس کے واسطے جہیز بنوایا یاکہا میں نے اسے اس کامالك کیا،یا یہ اس کا ہے۔یا اتنا ہی کہا کہ یہ میں نے اس کے لئے بنوایا ہے۔تو ضرور کل مال یا ا س میں سے جس خاص شیئ کی نسبت یہ لفظ صادر ہوئے تھے ملك دختر ہے اگرچہ قبضہ دختر نہ ہوا کہ نابالغ کے لئے باپ کا قبضہ کافی ہے۔فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
اشتری ثوبا فقطعہ لولدہ الصغیر صار واھبا بالقطع مسلما الیہ قبل الخیاطۃ ولو کان کبیر ا لم یصر مسلما الیہ الابعد الخیاطۃ والتسلیم ولو قال اشتریت ھذا لہ صارملکا لہ کذا فی القنیۃ [1]۔ |
کپڑا خریدکر کاٹا اور نابالغ بیٹے کو سلے بغیر دے دیا تو ہبہ ہوگیا اور اگر بالغ بیٹے کے لئے ایسا کیا تو سلائی اور قبضہ دئے بغیر ہبہ نہ ہوگا اور اگر کہا میں نے بیٹے کے لئے خریدا ہے تو بیٹے کی ملك ہوجائے گا قنیہ میں یوں ہے۔(ت) |
فتاوٰی ولوالجیہ پھر منح الغفار پھر ردالمحتار اورینابیع پھر ہندیہ میں ہے:
|
واللفظ للشامی جہز الاب ابنتہ ثم بقیۃ الورثۃ یطلبون القسمۃ منہا فان کان الاب اشترٰی لہا فی صغرہا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذٰلك فی صحتہ فلا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
الفاظ شامی کے ہیںـ:والد نے بیٹی کو جہیزدیا اور والد کی وفات کے بعد باقی ورثاء اس جہیز میں حصہ کے طالب ہوئے تو اگر والد نے اپنی صحت میں بیٹی نابالغ یا بالغ کے لئے خرید کر قبضہ دے دیا تھا تو ورثاء کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور وہ بیٹی کے لئے خاص ہوگا،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع