30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳عورت نے اس کے جد اجدا ٹکڑے کرکے ہر موہوب لہ کو الگ الگ قابض کرایا یامجموعی حالت میں ان سب کو ہبہ کیا،اور ۴وہ پوتے بالغ ہیں یا بعض یا سب نابالغ،اور ۵جو نابالغ ہیں کسی کی پرورش میں ہیں۔اور ۶ان کی طرف سے کس نے قبضہ کیا،اور ۷وہ بہو اور پوتے سب صاحب نصاب ہیں یعنی ان میں ہر ایك چھپن روپے یا زیادہ کے مال کا مالك ہے،یا بعض صاحب نصاب ہیں بعض فقیر یا سب فقرا،اور یہ چھٹا حصہ کہ ا س نے ہبہ کیا باقی جائداد میں ملا ہوا تھا یا الگ الگ کرلیا تھا،ان تمام باتوں پر جدا احکام ہوں جن کی تفصیل میں طول ہے اور سائل کی غرض صرف ایك صورت سے متعلق ہوگی،لہذا ان آٹھوں باتوں کا جواب مفصل بیان لکھنے پر اس خاص صورت کا جو حکم ہو بتایا جائے گا ان شاء اﷲ تعالٰی واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸: از شہر کہنہ مسئولہ سید نور اﷲ محرر دارالافتاء بروز دوشنبہ ۹ ذی الحجہ ۱۳۲۳ھ
(زید نے اپنے بیٹے بکر کے نام ایك مکان لکھا)بکر سے بحالت مرض الموت بکرکے اس کو رنج دے کر طوعًا وکرہًابکر کے نام کا مکان زید نے اپنی دوسری زوجہ غیر کفو کے نام لکھا دیا،کیا یہ ہبہ جائز ہے یافاسد؟
الجواب:
اگر بکر کے نام کاہبہ صحیح اور قبضہ خالصہ سے تام ہوگیا تھا تو یہ ہبہ بے رضائے مالك ہوا باطل ہے اگر مالك بے اجازت مرگیا، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۹: ا ز بجنور مرسلہ مولوی محسن علی خاں صاحب منصف ۱۰ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے زیور نقرئی و طلائی اور ظروف دیگر وسامان اس نیت وارادہ سے تیار کرایا کہ وہ اپنی دختر ناکتخدا کے عقدنکاح کے بعد رخصت کے وقت جہیز میں دے گا،چنانچہ بعض لوگوں کویہ سامان دکھلا کر یہی بیان بھی کیا مگر قبل اس کے کہ نوبت عقد ورخصت دختر مذکور کی پہنچے اس نے قضا کی ایسی حالت میں وہ زیور ظروف وسامان ترکہ متوفی قرار پائے یادختر مذکور تنہا اس کی مالك ومستحق سمجھی جائے۔
الجواب:
کوئی تملیك محض نیت وارادہ سے نہیں ہوسکتی نہ مجرد اظہار ارادہ کہ میں نے ا س لئے بنوائے یا یہ مال فلاں کو دوں گا کوئی اثر ملك پیدا کرسکے۔اصلاح وایضاح میں ہے:
|
الھبۃ ھی فی الشرع تملیك مال للحال بلاعوض [1]۔ |
شرع میں فی الحال مال کا بغیر عوض کے لئے مالك بنانا ہبہ کہلاتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع