30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اختیار تھا یہاں تك کہ متولی وقف کو بوجہ ولایت ہی اپنی ملك سے تعبیر کرتا ہے وکیل ملك موکل کو اپنی ملك کہتاہے۔ عالمگیریہ میں ہے:
|
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ [1]۔ |
اگر محدود زمین پر اپنا دعوٰی کیا اور پھر بعد میں اس زمین کے وقف ہونے کا دعوٰی کیا تو اس صورت کا صحیح جواب یہ ہے کہ اگر اپنی تولیت میں وقف کا دعوٰی کیا تو دونوں دعووں میں موافقت ہوسکتی ہے کیونکہ عادتًا وقف تصرف اور خصومت میں متولی کی طرف منسوب ہوتاہے۔(ت) |
اور اگر فرض کیجئے کہ اس سے بکر کی مراد ان مکانوں کا خود مالك بننا ہی تھا،جب اصل گفتگوئے بیع لڑکوں کے نام ہوئی ان کی ملك ثابت ہوگئی،پھر بکر اسے اپنے نام کیونکر منتقل کرسکتا ہے،اس صورت میں مکان وراثت سے بری ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۵: مستفسرہ عبداﷲ صاحب بہاری بروز چہارم شنبہ ۲ شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکے کی شادی ہوئی،قریب عمر ۹،۱۰ برس کے تھی،نکاح کی اجازت لڑکی کے والد نے دی اور اس برات میں آپس میں نزاع ہوگئی،نکاح دو دن نہیں ہوا،تیسرے دن وقت ۱۰ بجے دن کے نکاح ہوا،بعد مغرب ۸ بجے رات کو رخصت لڑکی کو کرکے ۹ بجے واپس چلی گئی،بعد دو سال کے لڑکے کا انتقال ہوگیا،بروقت جنازہ تیار ہونے کے لڑکی کے باپ نے مہر معاف کیا،اب جو مال یعنی زیور جولڑکے کے والد نے شادی میں چڑھایا تھا وہ طلب کرتاہے تو لڑکی کا والد کہتا ہے کہ میرا مہر دو جب دوں گا،اب اس حالت میں جائز ہے یانہیں؟ شرع سے جو حکم ہو وہ تحریر ہوجائے۔
الجواب:
اگرلڑکی نابالغہ تھی او رباپ نے مہر معاف کیا تویہ معافی محض باطل ہے اور مہر کا اپنی دختر کے لئے اسے مطالبہ پہنچتاہے،یونہی اگر وقت معافی مہر دختر بالغہ تھی او رباپ نے اس کی اجازت کے بغیر معاف کیا بعد معافی عورت نے اسے جائز کہا،جب بھی مہر معاف نہ ہوا اور مطالبہ صحیح ہے ہاں اگر وقتِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع