30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے صرفہ ذاتی سے خود کرتا رہا۔اب زید کا انتقال ہوگیا،بموجب حکم شرع شریف کے وہ مکان مملوکہ خاص زوجہ زید کا ہوگا یا یہ کہ زید کے سب ورثہ میں مشترك ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر زید نے وقت ایجاب وقبول بیع بنام زوجہ کرائی مثلابائع سے کہا یہ مکان میں نے اپنی بی بی کے نام خریدا بائع نے کہا میں نے تیری بی بی کے ہاتھ بیچا جب تو اس مکان کی مالك زوجہ ہوئی جبکہ زوجہ نے وہ بیع اپنے نام جائز رکھی،درمختار میں ہے:
|
لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلو اضافہ بان قال بع لفلان فقال بعتہ لفلان توقف، بزازیہ وغیرھا[1]۔ |
اگر غیر کے لئے کوئی چیز خریدی اور خریداری کو غیر کی طرف منسوب نہ کیا تو یہ خریدار کی ہوگی،اگر یہ کہہ کر غیر کی طرف منسوب کی کہ یہ چیز فلاں کے لئے بیع کراور جواب میں دوسرا کہے میں نے یہ فلاں کے لئے بیع کی،تو اس غیر کی اجازت پر موقوف رہے گی،بزازیہ وغیرہا(ت) |
اور اگر زید نے خریداری زوجہ کے نام نہ کی پھر بیعنامہ میں زوجہ کانام لکھا دیا تو مالك زید ہوا اور بیعنامہ میں زوجہ کانام لکھانا زوجہ کے لئے ہبہ کہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتا،اور جبکہ زید خودبھی اس مکان میں رہا اور اپنا اسباب رکھا اور کبھی خالی کرکے زوجہ کو قبضہ نہ دیا یہاں تك کہ مرگیا تو وہ ہبہ باطل ہوگیا،مکان ملك زید ہے حسب فرائض ورثائے زید پرمنقسم ہوگا۔درمختار میں ہے:
|
تتم الھبۃ بالقبض الکامل ولو الموھوب شاغلالملك الواھب لامشغولابہ [2]۔ |
ہبہ کامل قبضہ سے تام ہوتاہے اگرچہ موہوب شاغل بملك واہب ہو اور اگرموہوب چیز واہب کی ملك میں مشغول ہے تو تام نہ ہوگا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل[3]. واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
"م"سے مراد فریقین میں سے ایك کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع