30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کل واحد منہما علیحدۃ ان جمع فی التسلیم جازت فیہما وان فرق لاتجوز فیہما ایہما قدم کذا فی السراج الوہاج [1](ملخصا) |
اورقبضہ دونوں کا معًا دیا تو دونوں کاہبہ جائز ہوگا اور قبضہ علیحدہ علیحدہ دیا دونوں کا ہبہ درست نہ ہوگا خواہ دونوں میں جس کو چاہے مقدم موخر کرے،سراج الوہاج میں یوں ہے۔(ملخصا) (ت) |
ششم ہاں اس صورت میں قبضہ نہ ہوااور قبل قبضہ موت موجب بطلان ہبہ ہے۔ درمختاراور ردالمحتارمیں ہے:
|
فی الاشباہ ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ دارا والاب ساکنہا ولو وھب طفلہ دارایسکن فیھا قوم بغیر اجر جاز ویصیر قابضا لابنہ لالوکان باجر ۲[2] (ملخصا)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
الاشباہ میں ہے مشغول چیز کا ہبہ ناجائز ہے الایہ کہ باپ اپنے نابالغ بیٹے کو ہبہ کرکے خود سکون پذیر بھی ہو تو جائز ہے،اگر نابالغ بیٹے کو باپ نے مکان ہبہ کیا جبکہ اس میں کوئی غیر سکون پذیر ہے اگر یہ سکونت پہلے سے بغیر اجارہ ہے تو ہبہ جائز ہوگا باپ کا قبضہ ہی بیٹے کاقبضہ ہوجائے گا۔اورغیر کی وہ سکونت اجارہ کے طور پر ہے تو ہبہ صحیح نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۱۳: از کانپور مرسلہ کریم احمد معرفت عم اونبی احمد سوداگر عطر بازار کلاں بریلی ۹ رجب ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ذاتی روپے سے ایك قطعہ مکان اپنی اہلیہ کے نام خرید کیا تھا اور بیعنامہ اپنی بی بی کے نام لکھوایا نہ اپنے نام سے بعد خریداری مکان زید اور اس کی بی بی نے ایك ساتھ مکان مذکور کے بالاخانہ پر سکونت اختیار کی اور مکان مذکورہ کے کل حصہ زیریں میں زید کا تجارتی مال ہمیشہ رہا کیا اوراب تك موجود ہے۔ خریداری مکان سے عرصہ تین سال کے بعد ہاؤس ٹیکس جاری ہوا رجسٹر ہاؤس ٹیکس کے خانہ ملکیت میں زید نے اپنا نام خود درج کرایا او رٹیکس کا روپیہ بھی تاحین حیات خود اداکرتا رہا۔اور مرمت مکان بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع