30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نانی کا اس پر قبضہ جائز وموجب تمامی ہبہ تھا،اگرہبہ مشاع نہ ہوتا تو اس صورت میں باپ کا اسی شہر میں موجود ہونا نانی کے قبضہ کا مانع نہیں۔یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوٰی،ہاں اگر نواسی اس کے قبضہ میں نہ ہو تو باپ کے ہوتے نانی وغیرہ کسی کا قبضہ جائز نہیں۔
درمختارمیں ہے:
|
ان وھب لہ اجنبی تتم بقبض ولیہ وھو الاب ثم وصیہ ثم الجد ثم وصیہ وان لم یکن فی حجرھم وعند عدمہم تتم بقبض من یعولہ کعمہ واجنبی لو فی حجر ھما والالوبفوات الولایۃ لکن فی البرجندی اختلف فیما لوقبض من یعولہ والاب حاضر فقیل لا یجوز والصحیح ھو الجواز [1]۔ |
اگر نابالغ کو اجنبی نے ہبہ دیا تو اس کے ولی کے قبضہ سے ہبہ تام ہوجائے گا ولی ترتیب وار،باپ پھر اس کا وصی،پھر دادا پھر اس کا وصی اگر بچہ ان کے پاس نہ ہو اور مذکور لوگ نہ ہوں پھر جس نے بچے کو اپنا عیال بنایا بشرطیکہ بچہ ان کے پاس ہو مثلا چچا اور کوئی اجنبی کہ اس کے قبضہ سے بچے کے لئے ہبہ تام ہوگا اگرمؤخر الذکر لوگوں کے پاس بچہ نہ ہو تو ان کا قبضہ معتبر نہ ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں ان کو ولایت نہیں ہے۔لیکن برجندی میں ہے کہ عیال میں لینے والا بچے کے والد کی موجودگی میں قبضہ کرے تو اختلاف ہے۔بعض نے کہا جائز نہیں اور صحیح یہ ہے کہ جائز ہوگا۔(ت) |
عالمگیریہ میں ہے:
|
اختلف المشائخ فیہ والصحیح الجواز ھٰکذا فی فتاوی قاضی خاں وبہ یفتی ھٰکذا فی الفتاوی الصغری [2]۔ |
اس میں مشائخ کا اختلاف ہے اور صحیح یہ کہ جائز ہے،فتاوٰی قاضی خاں میں یونہی ہے اور فتاوٰی صغرٰی میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے۔(ت) |
سوم۳: پوتی کہ ماں کی پرورش میں ہے اس کے ہبہ پردادی کا قبضہ جائز نہیں اگرچہ اسی شہر میں ہو کما تقدم عن الدر [3]من قولہ والالا،لفوات الولایۃ(جیسا کہ درمختار میں گزرا کہ عیال میں ہو تو جائز ورنہ نہیں کیونکہ ولایت نہ پائی گئی۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع