30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں جبکہ جائداد قابل قسمت ہے او ر دو شخصوں کوبلاتقسیم ہبہ کی گئی ہبہ مشاع ہوا او رہبہ مشاع ناجائز ہے۔تنویرمیں ہے:
|
وھب اثنان دارا لواحد صح و بعکسہ لا [1]۔ |
دو افراد نے ایك شخص کو مکان دیا تو صحیح ہے اور اس کا عکس ہوتو ناجائز ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
للشیوع فیما یحتمل القسمۃ [2] |
قابل تقسیم چیز میں شیوع کی وجہ سے(ت) |
اور جبکہ تسلیم بالتقسیم سے پہلے واھبہ نے انتقال کیا ہبہ بالاجماع باطل ہوگیا
|
ای علی مذہبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ و اشار بالاجماع الی ارتفاع النزاع فی ان ھبۃ المشاع فاسدۃ تفید الملك بالقبض ام باطلۃ فلاتفید اصلا و ذٰلك لان الموت قبل التسلیم مبطل اتفاقا ولوھبۃ صحیحۃ فضلا عن فاسدۃ۔ |
یعنی امام صاحب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب پر اور اجماع کا اشارہ اس لئے کیا کہ مشاع چیز کا ہبہ فاسد ہو تو قبضہ کے ساتھ مفید ملك ہوگا یا وہ باطل ہو تو ملکیت کےلئے اصلا مفید نہ ہوگا اس بات میں نزاع ختم ہوگیا۔یہ اس لئے ہے کہ قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت ہبہ کو بالاجماع باطل کردیتی ہے اگرچہ ہبہ صحیح ہو توفاسد کا ذکر ہی کیا رہا۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم ولو قبلہ بطل[3]۔ |
میم سے فریقین میں سے ایك کی موت قبضہ دینے کے بعد مراد ہےاور موت قبل از تسلم ہو تو باطل ہوجائے گا۔(ت) |
سوال اول کا جواب ہوگیا بلکہ یہاں اسی قدر کافی تھا۔
دو م۲ نابالغہ نواسی اگر نانی کے پاس رہتی تھی نانی کے قبضہ میں تھی تو جوہبہ اس کے لئے ہوا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع