30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶ششم: یہ کہ اگر مکان مسکونہ میں متوفیہ تادم حیات خود رہی بعد تحریر ہبہ نامہ کے اور باقی مکان دکاکیں میں اسی متوفیہ کے کرایہ دار تھے اور کوئی امر جدید جو موجب قبضہ ہوتا تاحیات متوفیہ عمل میں نہیں آیا تو موجب بطلان ہبہ ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ جزءً وکُلا تمام وکمال باطل وبے اثرمحض ہے وہ سب جائداد متروکہ عورت ہے اس کے وارثوں پر حسب فرائض تقسیم ہوگی بہن کی پوتی نواسی اس میں سے اس عقد و تحریر کی بناء پر ایك حبہ نہیں پاسکتیں،نہ ازروئے ہبہ،نہ بروئے وصیت کہ مرض الموت کا ہبہ اگرچہ حکما وصیت ہے،حقیقۃً ہبہ ہے اگر موہو ب لہ کے قبضہ تامہ شرعیہ سے پہلے واہب کا انتقال ہوجائے باطل محض ہوجاتاہے۔ہندیہ میں محیط سے ہے:
|
قال فی الاصل ولاتجوز ھبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت جازت من الثلث واذا مات الواھب قبل التسلیم بطلت یجب ان یعلم ان ھبۃ المریض ھبۃ عقد اولیست بوصیۃ واعتبار ھا من الثلث ماکانت لانہا وصیۃ معنی لان حق الورثۃ یتعلق بمال المریض وقد تبرع بالھبۃ فیلزم تبرعہ بقدر ماجعل الشرع لہ وھو الثلث واذا کان ھذا التصرف ھبۃ عقدا شرط لہ سائر شرائط الھبۃ ومن جملۃ شرائطہا قبض الموھوب لہ قبل موت الواھب [1]۔ |
اصل میں فرمایا ہے مریض کا ہبہ یا صدقہ صرف وہی صحیح ہوگا جس پر اس نے قبضہ دے دیا ہو تو جب قبضہ دے دیا تو اس کے تہائی مال سے جائز ہوگا اور اگر وہ قبضہ دینے سے پہلے فوت ہوگیا تو ہبہ باطل ہوجائے گا یہ جاننا ضروری ہے کہ مریض کاہبہ عقدکے اعتبارسے ہبہ ہے وصیت نہیں ہے اور اس میں تہائی مال تك جتنا بھی اس کا اعتبار ہے اس لئے ہے کہ وہ معنًی وصیت ہے اس لئے کہ اس کے مال سے ورثاء کاتعلق ہے اور ہبہ کرکے تبرع کیا ہے توتبرع میں اتنا ہی دیا جاسکتا ہے جتنا شریعت نے اس کو حق دیاہے اور وہ تہائی حصہ ہے اور جب مریض کا یہ تصرف عقدکے لحاظ سے ہبہ ہے تواس میں ہبہ کے شرائط معتبرہوں گے جبکہ اس کے جملہ شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ واہب کی موت سے قبل موہوب لہ کا قبضہ ہو۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع