30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فی الاشباہ [1] والدروغیرھما۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جیسا کہ اشباہ اور درمختار وغیرہمامیں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ۱۰۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی پہلی زوجہ سے دو لڑکیاں اور ایك لڑکا بالغ موجود ہیں اور زوجہ اولٰی نے قضاء کی،ز ید نے نکاح ثانی کیا،اس سے کئی اولادیں پیدا ہوئیں،زید نے زوجہ ثانیہ کے نام ایك مکان پختہ کلاں مسکونہ لکھ دیا۔اولاد زوجہ ثانیہ کی دو لڑکیاں بالغ جن کی شادی ہوگئی اپنے گھروں پر موجود ہیں۔اوردولڑکے ایك سات برس کا اور دوسرا پانچ برس کا نابالغ ہیں زید ان دونوں نابالغوں کو اپنی کل جائداد بقیہ لکھتاہے۔زید کا کچھ مال یا نقد سوائے اس جائداد کے باقی نہ رہے گا،اس صورت میں زید کی خدمت اورنابالغوں کی پرورش کون کرے گا ا ورکس چیز سے ان کا خرچ کیا جائے گا اور تجہیز وتکفین کون کرے گا،کون حصہ پائے گا۔اور کون خدمت گزار بنے گا۔بینوا توجروا
الجواب:
اگر وہ اپنی جائداد بلاتقسیم ان دونوں کے نام ہبہ کردے گا جب تو ہبہ ہی صحیح نہ ہوگا۔تنویرالابصار میں ہے:
|
لووھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا [2]۔ |
اگر دو افراد ایك شخص کو اپنا مکان ہبہ کریں توصحیح ہے اور اس کا عکس صحیح نہیں ہے۔(ت) |
اوراگر تقسیم کرکے ہبہ کرے گا یا بعدہبہ تقسیم کردے گا تو بلاتقسیم ان کے نام بیع کرے گا تو ان صورتوں میں وہ لڑکے ضرور مالك ہوجائیں گے مگر زید دیگر ورثہ کومحروم کرنے کے سبب گنہ گار ہوگا۔حدیث میں ہے:
|
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ [3]۔ |
جوا پنے وارث کی میراث سے بھاگے گا اﷲ تعالٰی جنت سے اس کی میراث قطع فرمائے گا۔ |
پھر اگر زید اس بلائے عظیم کو اوڑھ لے تو بچوں کے خورد ونوش سے سوال کے کوئی معنی نہیں۔وہ بچے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع