30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں داخل خارج کرادینا اوروہ کارروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیك ہیں،اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں۔
ردالمحتارمیں ہے:
|
اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الابن یکون للاب الا اذا دلت دلالۃ التملیک،بیری،قلت فقد افاد ان التلفظ بالایجاب و القبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك [1] اھ مافی الشامی قلت و مثل مافی بیری فی احکام الصغار وفی الباب السادس من الھندیۃ کلیہما عن الملتقط۔ |
جب بیٹے کو مال دیا اور اس نے تصر ف کیا تو وہ مال باپ کا ہوگا ہاں یہ کہ کوئی قرینہ ایسا ہو جو تملیك پر دلالت کرے تو بیٹا مالك ہوگا۔بیری،میں کہتاہوں،اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہبہ میں ایجاب وقبول لفظا ضروری نہیں بلکہ تملیك کاکوئی قرینہ کافی ہے۔شامی کا بیان ختم ہوا،میں کہتاہوں مثل بیری کے احکام الصغار اورہندیہ کے چھٹے باب کا بیان ملتقط سے منقول ہے۔(ت) |
زید کا عمرو سے روپیہ مانگنا اور عمرو کا دینا کچھ منافی تملیك نہیں ہوسکتا جیسے عمرو ابتداءً مالك مکان ہوتا اور باپ کو اس کے مانگنے پر بلکہ بے مانگے اس کا کرایہ دیا کرتا،اور حامدہ وخالدہ کا وہ بیان محض دعوٰی ہے اور کوئی دعوٰی بلا دلیل مقبول نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں ہے:
|
لویعطی الناس بدعوٰھم لذھبوا بدماء الناس و اموالہم ولکن البینۃ علی من یدعی [2] |
محض دعوٰی کی بناء پر لوگوں کو دیا جائے تو لوگ عوام کا مال اور جان لوٹ لیں گے لیکن مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ (ت) |
بلکہ بعد ثبوت تملیك اگر زید کا انکار ثابت بھی ہوجائے تو اصلا نہ مفید نہ قابل اعتبار کہ بعد تمامی ہبہ،ہبہ للولد سے والد کو رجوع کااختیار نہیں لان المحرمیۃ مانعۃ(کیونکہ محرم ہونا مانع ہے۔ت)نہ بعد عقد کوئی بلابینہ اس کے فرضی ہونے کا دعوٰی کرسکتاہے۔
|
لان من سعی فی نقض ماتم من جہۃ فسعیۃ مردود علیہ |
جو شخص اپنے تام کئے ہوئے کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس کی یہ سعی مردودہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع