دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

بھی وہ مکان ملك ولد ہوگیا اور والد کو اس میں رجوع کا اصلا اختیارنہ رہا فان المحرمیۃ تمنع الرجوع(کیونکہ محرم ہونا رجوع کے لئے مانع ہے۔ت)پھر اگر کسی دھوکے سے رجوع کرلی تو ظاہر ہے کہ ولد نے جو اس کے کہنے سے اس کا قرضہ ادا کیا یہ ادا کرنا تبرعا نہ تھا کہ اس کے صلہ میں زمین دیناقرار پایا تھا۔جب زمین واپس ہوجائے گی بلاشبہ ولد کو اپنا روپیہ واپس لینے کا اختیار ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۰۴:                              از شہر کانپور محلہ پریڈ مرسلہ محمد ابراہیم مسیح صدیقی                       ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منجملہ اپنی جائداد غیر منقولہ کے ایك مکان اپنے پسر عمرو کو دے دیا اس طرح پر کہ دفاتر سرکاری میں درخواست دے کہ زید نے اپنا نام رجسٹر مکانات میں خانہ ملکیت سے خارج کراکے اپنے پسر عمرو کا نام داخل کرادیا بعدہ کرایہ نامہ مکان مذکور جو درمیان کرایہ داران اورعمرو کے تحریر وتصدیق ہوتے رہے ان کا کرایہ ناموں پر دستخط بحیثیت مالك کے ثبت ہوا کئے،اور زید اپنی شہادت گواہ شد لکھ کر تحریر کرتارہا۔رسید کرایہ کی عمرو کے دستخط اور نام سے دی جاتی تھی اورنالشان کرایہ داران پر صرف عمرو کی جانب سے ہوتی رہیں اور محصول سرکاری بھی از نام خزانہ سرکاری میں جمع ہوا کرتا ہے اور چند مرتبہ جب زیدنے اپنی مملوکہ ومقبوضہ جائداد کی فردمرتب کرکے داخل سرکار یا عدالت کی ہے تو ا س میں بھی اس مکان موہوبہ کو اپنی ملك درج وظاہر نہیں کیا مگر محاصل مکان مذکور یعنی کرایہ مکان موہوبہ سے کبھی بقدر ربع کبھی ثلث اورکبھی نصف زید مذکور عمرو سے واسطے مصارف خوردونوش اپنے و اپنے اہل وعیال کے جس میں عمرو پسر زید بھی شامل شریك تھا لے لیاکر تا تھا۔اور عمرو مذکور بلاعذر بخوشی تمام بہ تعمیل حکم اپنے پدریعنی زید کے جس قدر روپیہ وہ طلب کرتا تھا دے دیا کرتا تھا۔اس قسم کے عملدرآمد کے سولہ برس کے بعد زید نے وفات پائی،خالدہ وحامدہ دختران زید کایہ بیان ہے کہ زید نے کسی مصلحت سے یہ مکان عمرو پسر کے نام درج رجسٹر سرکاری کراکے قبضہ عمرو کودے دیا تھا۔اور زید کا یہ قول بھی بیان کرتی ہیں کہ اس نے بارہا ظاہر کیا کہ اس نے یہ مکان عمرو کی ملك نہیں کردیا ہے،زید کے اس قول کے شاہد بجز دختران مذکور زید کے جو وارث اور مستحق متروکہ زیدکے بنی ہیں اور کوئی نہیں ہے،پس ایسی صورت میں ازروئے شرع شریف فقہ حنفی یہ مکان موہوبہ تنہا ملك عمرو متصور ہوگا اور اس کا مالك صرف عمرو قرار پائے گا،یا یہ مکان بھی متروکہ زید متصورہوکے جملہ وارثان پر قابل تقسیم ہوگا۔بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں وہ مکان تنہا ملك عمرو ہے زید یا دیگر وارثان زید کا اس میں کچھ حق


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن