30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر جائز کردے گا جائز ہوجائے گا۔رد کردے گا باطل ہوجائے گا اور اگر موانع رجوع نہ ہو جب بھی رجوع کا خود بخود اختیار نہیں ہوتا بلکہ یا تو موہو ب لہ کی مرضی سے ہبہ واپس کرلے یا نالش کرکے بحکم حاکم رجوع کرے۔اس کے بعد دوسرے کو ہبہ کرسکتاہے،بغیر اس کے وہی ملك غیر کا ہبہ ہے۔درمختارمیں ہے:
|
لایصح الرجوع الابتر اضیہما اوبحکم الحاکم [1]۔ |
دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی یاحکم حاکم کے بغیر رجوع صحیح نہیں ہے۔(ت) |
عالمگیریہ میں ہے:
|
لاتجوز ھبۃ مال الغیر بغیر اذنہ [2]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
غیرکے مال کا ہبہ اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۰۳: از مقام کبیر کلاں ڈاکخانہ خاص علاقہ ڈبائی ضلع بلند شہر مرسلہ عطاء اﷲ ٹھیکدار ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ والد نے اپنے فرزند کو اپنے گھر سے نکالا او رکچھ حقیت اپنے فرزند کے نہیں رکھی،فرزند بحکم اپنے والد کے گھر سے نکل کر اجنبی مکان میں سکونت پذیر ہوا۔بعد اس کے ان کے والد مقروض ہوئے اور اپنے اسی فرزند سے کہا کہ تم میرا قرضہ ادا کردو اور میں اس کے عوض میں ایك قطعہ زمین واسطے مکان کے تمھارے نام لکھتا ہوں،چنانچہ ولد نے اپنے والد کا قرضہ ادا کرکے اس زمین کی رجسٹری کرالی،اب اس کے والد نے مکان کے واپس لینے کی درخواست عدالت میں دی ہے کہ میں نے اپنے فرزند کو مکان عاریتا دیا تھا ملکیت کے طور پر نہیں دیا تھا،اگر والد نے اپنا مکان واپس کرالیں تو ولد کوبحکم شرع مجاز ہے کہ اپنے والد سے ثمن واپس لیں یا نہیں،یا اس قاعدہ میں ہوگا کہ والد فرزند کے مال کا مالك ہے۔
الجواب:
اگر وہ مکان اس شخص نے اپنے ولد کے نام بیع کیا جب تو ظاہر ہے کہ اسے فسخ بیع کا کوئی اختیار نہیں اور اگر واپس لے گا توثمن واپس دینا پڑے گا اور اگر ہبہ کیا اور قبضہ تامہ دلادیا جب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع