30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھذا ظاھر [1]واﷲ تعالٰی اعلم |
مالك بنائے گا،یہ ظاہر ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
(۲)جملہ وارثوں سے ایجاب وقبول کرانا کچھ ضرور نہیں،ہاں واہب کا اپنا قبضہ تمام وکمال اٹھاکر موہوب لہ کا قبضہ کرادینا ضرور ہے اگر ذرا دیر کو بھی تاحیات ایسا نہ کیا ہبہ موت واہب قبل قبضہ زوجات سے باطل ہوگیا،اشباہ ودرمختارمیں ہے:
|
ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ [2]۔ |
دوسرے کے حق میں مشغول چیز کا ہبہ جائز نہیں الایہ کہ والد اپنے نابالغ بچے کو ہبہ کرے تو جائز ہے۔(ت) |
مگریہ ہبہ اگر دین مہر کے عوض کیا ہے تو صحیح ہوگیا اور قبضہ کی حاجت نہیں کہ ہبہ بالعوض بیع ہے۔درمختار میں ہے:
|
لوقال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداء و انتہاء [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر یوں کہا میں نے تجھے فلاں چیز کے بدلے ہبہ کیا تو یہ اول آخر بیع ہوگی،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
(۳)ہبہ نامہ میں وصیت نامہ شامل کرنے سے ہبہ باطل نہیں ہوتا۔سوال بہت گول و مہمل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴)تنخواہ کا جواب اوپر گزرچکا کہ وہ ہبہ نہیں ہوسکتی نہ ملك غیر کا ہبہ کرنا نافذ ہو جب تك وہ اسے جائز نہ کردے،مگر ایسی اشیاء کے ساتھ اپنی ملك خاص کاہبہ کردینا ملك خاص کے ہبہ کو ضرر نہ دے گا جبکہ وہ چیز جدا منقسم ہو اس غیر ملك کے ساتھ مخلوط ومشاع نہ ہو
|
لان الھبۃ لا تفسدبالشرائط الفاسدۃ بخلاف البیع۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ ہبہ فاسد شرط سے فاسد نہیں ہوتا بخلاف بیع کے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
(۵)جو چیز کسی کو ہبہ کردی اور قبضہ دے دیا اور ہبہ تام ہوگیا وہ شے موہوب لہ کی ملك ہوگئی،اب جو اس دوسرے شخص کو ہبہ کرتاہے یہ پہلے ہبہ سے رجوع ہے اگر موانع رجوع سے کوئی شیئ پائی جاتی ہو مثلا جسے ہبہ کیا وہ اپنی زوجہ یا اپنا عزیز محرم مثل پسر یا برادروغیرہ ہے،جب تو ظاہر ہے کہ اسے رجوع کا کچھ اختیار نہیں۔وہ ہبہ اسی موہوب لہ کی اجازت پر موقوف رہے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع