30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تصیر مشریۃ لنفسہا واھبۃ من ولدہا لعدم ولایتہا کما من العقود الدریۃ[1] وغیرھا۔ |
کوئی چیز خریدے اورا قرار کرے میں نے اپنے مال سے خریدی ہے تو خریداری ماں کی ہوگی اور نابالغ کے لئے وہ چیز ہبہ قرار پائے گی کیونکہ ماں کی نابالغ بچے کے لئے خریداری کی ولایت نہیں ہے جیسا کہ عقود الدریہ وغیرہ میں ہے(ت) |
اوراگر اصل خریداری میں لڑکوں کے نام نہ تھا اگرچہ بعد کو بیعنامہ میں ان کا نام لکھا دیا تو تو ابتداءً مالك جائداد زید ہوا۔پھر بیٹوں کے نام بیعنامہ لکھانا ان کے انکے عــــــہ سے ہبہ ہوا اور باپ جو اپنے نابالغ بچہ کے نام ہبہ کرے وہ ہبہ کرتے ہی تام ولازم ہوجاتاہے۔نہ قبول نابالغ کی حاجت نہ دو کے نام بلاتقسیم ہبہ ہونا مضر کہ قبضہ والد یعنی خود واہب کاکافی وکامل بلاشیوع ہے، در مختارمیں ہے:
|
وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع وبعکسہ لکبیرین لاعندہ للشیوع فیما یحتمل القسمۃ [2]۔ |
دوافراد نے ایك شخص کو مکان کا ہبہ کیا تو جائز ہے کیونکہ اس میں شیوع نہیں ہے اور عکس کی صورت میں کہ ایك شخص دو بالغ افراد کو ایك مکان دے تو جائز نہیں امام صاحب رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک،کیونکہ اس صورت میں شیوع ہے قابل تقسیم ہونے کی وجہ سے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
افاد انہا للصغیرین تصح لعدم المرجح لسبق قبض احدھما وحیث اتحد ولیہما فلاشیوع فی قبضہ و یویدہ قول الخانیۃ [3]الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عکس والی صورت سے ظاہر ہوا کہ دو نابالغوں کو دے تو صحیح ہوگا کیونکہ دونوں میں سے کسی کو سبقت میں ترجیح نہ ہوئی اور ان کے لئے ایك ولی قبضہ کرے گا تو قبضہ تقسیم نہ ہوگا اور شیوع نہ ہوا۔اور خانیہ کا قول اس کی تائید کرتاہے،الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
عــــــہ: فی الاصل ھکذا،لعل الصواب"نام"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع