30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگر بیع واقع ہونے کے بعد بیعنامہ میں تیرہ سو کی معافی لکھی تو یہ صورت ہبہ ثمن کی نہیں بلکہ ابراء کی ہے اور ابراء میں شرعا حق رجوع نہیں۔اشباہ میں ہے:
|
ماافترق فیہ الھبۃ ولاابراء لہ الرجوع فیھا عند عدم المانع بخلافہ مطلقا[1]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہبہ اور ابراء میں فرق یہ ہے کہ ہبہ میں مانع نہ ہونے کی صورت میں رجوع(واپس لینا)جائز ہے،ابراء اس کے خلاف ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۹۷: از دیوبند ضلع سہارنپور محلہ مسجد کمال مرسلہ قاسم حسین صاحب تحصیلدار ۱۵ محرم شریف ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد اپنے دو لڑکوں نابالغ کے نام خرید کی،بروقت خریداری جائداد کے جس کے نام جائداد خریدی کی گئی اور ایك لڑکی موجود تھی سوائے اولاد مذکورۃ الصدر کے اس وقت اور کوئی اولاد نہیں تھی،بعد ازاں زید مذکور کے ایك لڑکا اور ایك لڑکی اور پیدا ہوئی۔اب جائداد سے وہ لڑکی جو اس وقت بوقت خرید کے موجود تھی اور وہ لڑکا اور لڑکی جو بعد خرید کے پیدا ہوئے شرعا حصہ پانے کے مستحق ہیں یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں نابالغ جن کے نام ان کے باپ نے جائداد خریدی اس جائداد کے مالك مستقل ہوگئے،جو لڑکی اس وقت موجود تھی یا جو لڑکا لڑکی بعد کو پیدا ہوئے ان کا اس میں کچھ حق نہیں کہ اگر اصل ایجاب وقبول بیع انھیں لڑکوں کے نام ہوا جب تو ظاہر ہے کہ جائداد بائع نے ان لڑکوں کے ہاتھ بیع کی اگرچہ زرثمن ان کی طرف سے باپ نے ادا کیا جو اس کا تبرع واحسان ہوا جس کا معاوضہ نہ وہ لے سکتاہے نہ اس کے دیگر ورثہ،اورباپ کو اپنے نابالغ بچوں کے نام ایسی خریداری کا مطلقا اختیار ہے۔
|
فلاینفذ الشراء علیہ حتی یجعل واھبا کالام اذا شرت بما لہا لولدہا الصغیر |
باپ پر خریداری عائد نہ ہو بلکہ بچے کو ہبہ کرنے والا ہوگا جیسا کہ ماں اگر نابالغ کے لئے اپنے مال سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع