30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التطاول سنہ ھ انتہٰی وفی القنیۃ المفلوج والمسلول والمقعد مادام یزداد کالمریض اھ،[1]وفیہ امالو قال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداءً وانتہاءً [2] اھ وفیہ وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ولو مثلا القیمۃ [3]اھ مزید امن ردالمحتار۔ |
کی حد ایك سال ہے اور قنیہ میں ہے مفلوج سل زدہ اور جڑا ہوا اگر ان کا مرض بڑھ رہا ہو تو مریض کی طرح شمار ہوں گے اھ اور اسی میں ہے اگر مریض کہے میں نے تجھے فلاں کے بدلہ میں ہبہ کیا تو یہ اول آخر بیع قرار پائے گی اھ،اور اسی میں ہے مریض کا اپنے وارث کوکوئی چیز فروخت کرنا باقی ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگا(اگرچہ مثلی قیمت پر فروخت کیا ہو اھ) یہ ردالمحتارکا اضافہ ہے۔(ت) |
خانیہ وعالمگیریہ میں ہے:
|
اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جازبیعہ وان مات من ذٰلك المرض ولم تجز الورثۃ بطل البیع [4] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جب کوئی چیز اپنی مرض الموت میں اپنے وارث کو فروخت کرے پھر تندرست ہوگیا تو بیع صحیح ہوگی اور اسی مرض میں فوت ہوجائے گی اور باقی ورثاء جائز نہ کریں تو بیع باطل ہوگی اھ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۹۶: از ریاست رامپور محلہ کوچہ قاضی مرسلہ سید ولایت حسین وکیل ۳ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد بدست عمرو بقیمت دو ہزار روپے کے بیع کرکے بیعنامہ میں یہ لکھ دیا کہ سات سو روپے میں نے وصول پائے اور تیرہ سو روپے منجملہ اس کے مشتری کو معاف کردئے تو یہ صورت ہبہ زر ثمن کی ہے یا نہیں؟ اور زید بائع کو حق رجوع عن الہبہ شرعا حاصل ہے یانہیں؟
[1] درمختار کتاب الطلاق باب الطلاق المریض مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۵
[2] درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴
[3] درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مجتبائی دہلی ۲ /۳۲،ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۹
[4] فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع