30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاقرارہ باطل لکونہ محالاشرعا [1] الخ اقول:وھو ماخوذ عن العلامۃ شیخ الاسلام ابی عبداﷲ محمد بن عبد اﷲ الغزی کما رأیتہ منقولا عندی فی حاشیۃ الاشباہ للعلامۃ السید الشریف محمد بن محمد الحسینی اٰفندی الشہیر بزیرك زادہ من رجال القرن العاشر قال وقد افتیت اخذا من قول العلامۃ الغزی بان اقرار ام الولد لمولاھا بدین لزمہا لہ بطریق شرعی باطل وان کتب بہ وثیقۃ لعدم تصور دین للمولی علی ام ولدہ اذ الملك لہ فیہ کامل والمملوك لایکون علیہ دین لما بلکہ واﷲ تعالٰی اعلم۔[2] اھ وھو المراد ھھنا یقول الحموی قال بعض الفضلاء وقد افتیت اخذ امن ذٰلك بان اقرار ام الولد[3] الی اٰخر ماقدمنا۔ |
اوربیوی بھی گزشتہ ایسے نفقہ کی معترف ہو کہ واقعی نافرمانی یا بلا فیصلہ قاضی یہ نفقہ ہے توخاوند کا یہ اقرار باطل ہوگا کیونکہ ایسا نفقہ شرعا محال ہے الخ اقول:(میں کہتاہوں)یہ شیخ الاسلام علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی سے ماخوذ ہے، جیسا کہ میں نے علامہ سید شریف محمد بن محمد الحسینی افندی المعروف زیرك زادہ جو کہ دسویں صدی کے عالم ہیں کے حاشیہ الاشباہ میں دیکھا انھوں نے فرمایا کہ میں نے علامہ غزی کے قول سے اخذ کرتے ہوئے یہ فتوٰی دیا کہ جب ام الولد اپنے مالك کے حق میں اقرار کرے کہ میرے ذمہ شرعی حق کے طور پر اس کا قرض ہے تو یہ اقرار باطل ہے اگرچہ مالك نے وثیقہ بھی لکھ رکھا ہو کیونکہ ام الولد پر مالك کے قرض کا تصورنہیں ہوسکتا اس لئے کہ ام الولد پر مالك کی مکمل ملکیت ہے جبکہ مملوك پر اپنے مالك کا دین نہیں ہوسکتا واﷲ تعالٰی اعلم اھ اور اس مقام پر حموی کے قول کے"بعض فضلاء نے فرمایا کہ میں نے اس سے اخذ کرتے ہوئے یہ فتوٰی دیا کہ ام الولد کا مالك کےحق میں قرض کا اقرار باطل ہے"سے حوالہ مذکورہ مراد ہے۔(ت) |
الحمد ﷲ ایضاح مسئلہ کے لئے اسی قدر کافی ہے باقی تخلیہ کی تحقیق تعریف وتنقیح شرائط و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع