30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لیس سببا للملك نعم لو سلمہ برضاہ کان ابتداء ھبۃ وھو الاوجہ بزازیۃ [1] اھ،وفی الاشباہ اقربالطلاق بناء علی ماافتی بہ المفتی ثم تبین عدم الموقوع فانہ لایقع کما فی جامع الفصولین والقنیۃ [2] اھ،وفیھا ایضًا الاقرار بشیئ محل باطل وعلی ھذا افتیت ببطلان اقرار انسان بقدر من السہام لوارث وھوا زید من الفریضۃ الشرعیۃ لکونہ محالاشرعا مثلامات عن ابن وبنت فاقرالابن ان الترکۃ بینہما نصفان [3] اہ باختصار،وفی غمز العیون یؤخذ من ھذا ان الرجل اذ ااقرلزوجتہ بنفقۃ مدۃ ماضیۃ ھی فیھا ناشزۃ اومن غیر سبق قضاء اوارضاء وھی معترفۃ بذٰلك
|
لینا جائز نہیں کیونکہ اقرار ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر مقر اپنی رضامندی پردے دے تو یہ دینا ابتداء ہبہ قرار دیا جائےگا اوریہی زیادہ مناسب ہے،بزازیہ۔اھ،الاشباہ میں ہےکسی مفتی کے فتوٰی کی بناء پر خاوند نے طلاق کا اقرار کیا پھر معلوم ہوا کہ اس فتوٰی کی وجہ سے طلاق نہ ہوئی ہے تو اقرار سے طلاق نہ واقع ہوگی،جیساکہ جامع الفصولین اور قنیہ میں ہے،اھ،اور اس میں یہ بھی ہے کہ کسی محال چیز کا اقرار کیا تو باطل ہوگا، اسی وجہ سے میں نے فتوٰی دیا کہ اگر کوئی شخص دوسرے وارث کے لئے وراثت کے حصہ کا اقرار کرے اور وہ حصہ شرعی حصہ سے زائدہو تو ایسا اقرار باطل ہوگا کیونکہ یہ زائد شرعا محال ہے،اس کی مثال یہ ہے کہ ایك شخص بیٹا اوربیٹی وارث چھوڑ کر فوت ہوا اور بیٹے نے یہ اقرار کیا کہ ترکہ ہم دونوں بہن بھائی میں نصف نصف ہے اھ مختصرًا،اور غمز العیون میں ہے اس سے یہ ماخوذ ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے لئے گزشتہ اس کے نافرمانی کے دور کے نفقہ یا ایسے گزشتہ وقت کے نفقہ جس کا قاضی نے فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی دینے پر راضی تھا اقرار کیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع