30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈرتا ہے اس سے پرہیز کرتاہے نہ کہ اس پر مُصر رہے،ہندہ نے اس سے کس دن کہا تھا کہ میرا روپیہ آپ امانت رکھیں اورکہا بھی تھا تو یہ اس کی تسلیم پرمجبور کیوں ہوا اور مجبور بھی تھا تو ہندہ کو ایك لمحہ کے لئے قبضہ دلاکر پھر اپنے پاس امانت رکھ لینا دشوار تھا مگر اس نے کھبی قبضہ نہ دیا تویقینا وہ کسی طرح قبضہ دینا نہ چاہتا تھا اور اس پرکوئی ایسا اندیشہ رکھتا تھا جو اس خوف امانت پر غالب تھا جس سے بچنے کو وہ اندیشہ گوار اکیا خواہ وہ خوف یہ ہو کہ ہندہ پھر واپس نہ دے گی اور وہ یا اس کا شوہر روپیہ ضائع کردیں گے،بیجاخرچ کرڈالیں گےخواہ کوئی او روجہ ہو،بہرحال قبضہ دینے سے امتناع واضح ہے،پھر تمامی ہبہ کیامعنی،تیسری او رواضح دلیل یہ ہے کہ اگر وہ واقعی جانتاکہ اس روپیہ پر ہندہ کی ملك تام ہوچکی ہے اور میرے پاس امانتا ہے پھر اپنے پاس رہنے میں اندیشہ مواخذہ لیا تھا جسے خیال کرکے رویا کرتا تو قطعا ہندہ کا روپیہ ہندہ کےحوالےکرتا کہ عالم تو عالم ہر عاقل کو اپنے دین کی احتیاط پرائے مال کی احتیاط پر غالب ہوتی ہے،اپنی آخرت کا مواخذہ پرائی دنیا کے نقصان سے زیادہ گراں ہوتا ہے تو صاف ثابت ہے تو کسی مصلحت خاصہ کےباعث جسے وہ خود ہی خوب جانتا ہوگا۔اس کا اظہار ہبہ محض نمائش ودل دہی ہندہ کے لئے تھا،یہ کلام بضرورت جواب مذکور ہوا ور نہ شرعاجب کسی عقد کی ناتمامی ثابت ہو تو حال عاقد پر مجرد حس ظن باعث تبدیلی احکام نہیں ہوسکتا،ہمارے نزدیك الزامات مذکورہ سے یہ آسان ہے کہ یہاں بعض احکام سے زید کا ذہول مان لیجئے کہ یہ چنداں دشوار نہیں وہ اپنے گمان میں یہی جانتاتھا کہ صرف فتح صندوق سے تخلیہ ہولیا اور ہبہ تمام ہوگیا،جیساکہ اس کے بعد بعض ذی علم مجیبوں کو عارض ہوا مگر وہ گمان خلاف تحقیق تھا تو حجت نہ رہا اذ لاعبرۃ بالظن البین خطؤہ(ایسے گمان کا اعتبار نہیں جس کا خطا ہونا واضح ہو۔ت)
بالجملہ ہبہ مذکورہ محض باطل ہے،البتہ زید کا اقرار باربار حاصل ہے مگر اقرار مفید ملك نہیں،و لہذا اگر مقر غلط اقرار کرے مقرلہ کو شیئ مقربہ لینا حرام ہے ولہذا اگر محض بربنائے اقرار دعوٰی ملك کرے قضاء بھی مردود وناکام ہے،اوریہاں جبکہ فریقین متفق ہیں کہ مالك زر زید ہی تھا اور ہندہ کی طرف انتقال ملك کاکوئی سبب سوا اس ہبہ باطلہ کے نہ ہوا تو یقینا وہ اقرار باطل تھا اور اقرار باطل کچھ اثر نہیں رکھتا،تو اب نہ ہبہ رہا نہ اقرار،اور روپیہ ملك ہندہ سے برکنار
|
فی تنویر الابصار لاتسمع دعواہ علیہ بشیئ بناء علی الاقرار [1]،فی الدرالمختار حتی لو قرکاذبا لم یحل لہ لان الاقرار |
تنویر الابصار میں ہےکسی کے اقرار کی بناء پر اس پرکچھ بھی دعوٰی قابل سماعت نہ ہوگا،درمختارمیں ہے حتی کہ اگر جھوٹا اقرارکرے تو مقرلہ کو اس سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع